مظفرآباد میں صدرِ آزاد جموں و کشمیر کے انتخاب کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کے کاغذاتِ نامزدگی باضابطہ طور پر جمع کرا دیے گئے ہیں۔
اس اہم موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان، صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر، کابینہ کے وزراء اور مسلم لیگ (ن) کے اراکینِ اسمبلی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو آزاد جموں و کشمیر کے صدارتی منصب کے لیے نامزد کیا گیا ہے، اور اس سلسلے میں قائدین نے الیکشن کمیشن کے پاس کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
خطہِ پلندری، سدھنوتی سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی ریاست آزاد جموں و کشمیر کے صدارتی منصب کے لیے نامزدگی ایک انتہائی خوش آئند اور تاریخ ساز اقدام ہے۔ یہ نامزدگی آزاد کشمیر کی تاریخ کے ایک ایسے عظیم اور باوقار خاندان کی خدمات کا شاندار اعتراف ہے جس کی نسلوں نے اس ریاست کی تعمیر و آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔
تحریکِ آزادی کے ہیرو کرنل خان محمد خان کا تاریخی کردار:
ڈاکٹر نجیب نقی خان تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عظیم مجاہد اور بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان کے پوتے ہیں۔ سن 1947ء کی جنگِ آزادی میں کرنل خان محمد خان نے ڈوگرا راج اور ظالم حکمرانوں کے خلاف خطہِ پونچھ اور میرپور کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی نہیں، بلکہ تعلیمی انقلاب کے فروغ کے لیے انہوں نے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد بھی رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سردار عثمان سدوزئی کی صدر نامزدگی پر ڈاکٹر نجیب نقی کو مبارکباد پیش
کیڈٹ کالج پلندری کا قیام اور خاندانی روایات:
اسی علمی و قومی خدمت کے تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے فرزند اور ڈاکٹر نجیب نقی خان کے والد، کرنل (ر) محمد نقی خان نے خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی پیش رفت کی۔ آزاد کشمیر کے مایہ ناز تعلیمی ادارے کیڈٹ کالج پلندری کے قیام اور منظوری میں ان کا کردار ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہی خدمات کے اعتراف میں کالج کی عمارت اور خطے کے تعلیمی ادارے اس خاندان کی یادگاروں سے منسوب ہیں۔
ریاست کی آئینی پختگی اور مسئلہ کشمیر کا مؤثر مقدمہ:
آبا و اجداد کی عظیم الشان روایات کے امین ڈاکٹر نجیب نقی خان کی ایوانِ صدر میں موجودگی ریاست کو آئینی پختگی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں لڑنے کی بھرپور صلاحیت فراہم کرے گی۔ اگر وہ اس اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہیں تو وہ اپنے خطے کی نمائندگی پہلے سے کہیں زیادہ شاندار اور احسن طریقے سے کر سکیں گے۔




