وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے حلقہ سماہنی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متحرک رہنما اور M/s Soneri Overseas کے مالک جام اظہر ایوب سمیت 6 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
تفصیلات اور نیٹ ورک کا انکشاف:
تفصیلات کے مطابق، علاؤالدین مستوئی سے برآمد شدہ موبائل فون کا پی ایس ایف آئی اے سی ٹی ڈبلیو کراچی میں تفصیلی معائنہ کیا گیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ وہ ایک منظم اور بین الاقوامی جرم پیشہ نیٹ ورک کا سرگرم ساتھی ہے۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ سعودی ورک ویزوں کے قانونی و جعلی اجرا کے عوض وصول ہونے والی غیر قانونی رقوم (جن میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افغان شہری بھی شامل ہیں) اکٹھی کرتا تھا اور یہ رقوم اپنے باس جہانزیب بیگ کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرواتا تھا۔ بعد ازاں، جہانزیب بیگ یہ رقوم اپنے باس یعنی M/s Sarkar Manpower کے مالکان (رضوان بٹ) کو منتقل کرتا تھا۔
مزید انکشافات سے یہ بھی سامنے آیا کہ اظہر ایوب (مالک M/s Soneri Overseas) بھی اس منظم بین الاقوامی جرم پیشہ نیٹ ورک کا اہم رکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی اور دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں ڈاکٹر نجیب نقی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع
حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی رقم کی منتقلی:
ملزمان نے مزید بتایا کہ یہ غیر قانونی رقوم ملک کے دور دراز علاقوں میں قائم مشکوک بینک اکاؤنٹس کے پیچیدہ نظام کے ذریعے بیرونِ ملک IMVTS (Illegal Money Value Transfer Services) یعنی ہنڈی حوالہ کے ذریعے منتقل کی جاتی تھیں۔ IMVTS فراہم کرنے والوں / حوالہ ہنڈی آپریٹرز کا کردار تفتیش کے دوران مزید واضح کیا جائے گا۔
دونوں ملزمان نے 11 مئی 2026 کو پی ایس ایف آئی اے سی ٹی ڈبلیو کراچی میں انکوائری میں شرکت کی اور مذکورہ جرائم میں فعال سہولت کاری کا اعتراف کیا۔ ملزمان نے رضاکارانہ طور پر انکشاف کیا کہ وہ جہانزیب بیگ، رضوان بٹ، نعمان بٹ، اظہر ایوب اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس کے انتظام میں سہولت کار کے طور پر کام کرتے تھے۔
میڈیکل سینٹرز اور دیگر افراد کا کردار:
کراچی کے مختلف میڈیکل سینٹرز کے اہلکار بھی اس سازش میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ مزید 8 سے 10 افراد بھی مختلف حیثیتوں میں اس منظم بین الاقوامی جرم پیشہ نیٹ ورک کی معاونت کر رہے تھے۔ ان افراد، قونصل خانوں/سفارت خانوں کے جعلی نمائندوں، نادرا اور امپاس حکام کے کردار کی بھی تفتیش کی جائے گی، جو مشتبہ افغان شہریوں کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے غیر قانونی اجرا میں ملوث تھے، جبکہ متعلقہ میڈیکل سینٹرز کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
نامزد ملزمان کی فہرست:
مندرجہ بالا حقائق و حالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ، حوالہ ہنڈی، جعلسازی، ٹریول ایجنٹس، نادرا و امپاس اہلکاروں اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز پر مشتمل ایک منظم بین الاقوامی جرم پیشہ نیٹ ورک، جن میں:
- سید زین علی ولد سید مشکور علی
- علاؤالدین مستوئی ولد سہراب
- جہانزیب بیگ (مالک M/s J. Zaib Overseas)
- رضوان بٹ (مالک M/s Sarkar Manpower)
- نعمان بٹ (شریک مالک M/s Sarkar Manpower)
- اظہر ایوب (مالک M/s Soneri Overseas)
اور دیگر نامعلوم افراد شامل ہیں، نے باہمی سازش کے تحت خلیجی ممالک میں جانے والے افراد (بشمول پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افغان شہریوں) کو جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر بھیجنے کا جرم کیا، جبکہ جی سی سی (GCC) ممالک کی قانونی اور طبی شرائط پوری نہیں کی گئیں، اور اس کے بدلے فی فرد بھاری غیر قانونی رقوم وصول کی گئیں۔
قانونی دفعات اور گرفتاری:
یہ تمام افعال پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018 (ترمیم 2025) کی دفعات 3، 4، 6 اور 7، ایمگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 17، 18 اور 22، اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468، 471 اور 109 کے تحت قابلِ سزا جرائم بنتے ہیں۔
لہٰذا مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور ملزمان،سید زین علی،علاؤالدین مستوئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔انسپکٹر ملک جنید حسن اس کیس کی تفتیش کریں گے۔




