اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش یونیورسٹی کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے قیام سے متعلق وزیراعظم کی مختلف ہدایات پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دانش یونیورسٹی کا قیام اور عالمی معیار کی سہولیات:
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دانش یونیورسٹی پاکستان کے باصلاحیت اور مستحق نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہترین تعلیمی، تحقیقی اور جدید تکنیکی سہولیات کی بدولت یہ یونیورسٹی ملک بھر اور پورے خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک مرکزِ امتیاز کے طور پر ابھرے گی۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دانش یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے پورے پاکستان سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر کیا جائے گا۔
فیکلٹی تقرری اور ورچوئل اسکول کا آغاز:
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں مختلف فیکلٹی آسامیوں کے لیے اب تک 185 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جبکہ بہترین اور باصلاحیت فیکلٹی کے انتخاب کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ ایف ایس سی اور اے لیول کے دوسرے سال میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے دانش یونیورسٹی کے ورچوئل اسکول کا ٹیلنٹ ہنٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے، جہاں کامیاب طلبہ کے لیے پانچ ماہ کی سو فیصد مفت کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ حکام نے آگاہ کیا کہ ورچوئل کلاسز کے لیے داخلہ ٹیسٹ ملک کے 40 سے زائد شہروں میں 24 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دانش سکولوں کی تعمیر، وزیراعظم افتخار گیلانی کو بریفنگ، سہولیات فراہمی کا فیصلہ
تعلیمی پروگرامز، برج پروگرام اور اہم ڈیڈ لائنز:
بریفنگ کے مطابق دانش یونیورسٹی کی عمارت آئندہ سال تک مکمل ہونے کا امکان ہے جبکہ باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 20 ستمبر 2027 کو ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں بائیو انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی و سماجیات پر مبنی جدید تعلیمی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ طلبہ کو یونیورسٹی میں باقاعدہ تعلیم شروع کرنے سے قبل ضروری تیاری اور معاونت فراہم کرنے کے لیے برج پروگرام بھی شروع کیا جائے گا، جو 10 اگست سے 14 ستمبر 2027 تک جاری رہے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر طارق فضل چودھری، رکن قومی اسمبلی اسامہ سرور، چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز دانش یونیورسٹی عارف سعید سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔




