وزارتِ داخلہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO)کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کی آڑ میں سرگرم ایک مسلح نیٹ ورک کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیرونی روابط بے نقاب کئے گئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق کارروائی کے دوران افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقے زرشاد سے مبینہ طور پر چلنے والے ایک غیر قانونی اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا جو مبینہ طور پر تیراہ اور باڑہ، خیبر پختونخوا کے راستے اے جے کے میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مبینہ کارکن ضیاء کو اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد، 3اہم ارکان نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی اختیار کرلی
وزارت کے مطابق جیک کے رکن ضیاء، کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سردار امان اور خواجہ مہران کا قریبی ساتھی ہے اور گزشتہ دو برس سے مبینہ طور پر غیر قانونی اسلحے کی ترسیل کا انتظام کر رہا تھا۔
وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ جے اے اے سی ایک پرتشدد گروہ ہے جو اے جے کے کے عوام کے مفادات کے خلاف سرگرمیاں کر رہا ہے اور اس کے بیرونی روابط اور مبینہ مالی معاونت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سے یہ بھی سامنے آیا کہ افغان طالبان حکومت مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے اور پاکستان سمیت خطے میں دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو سہولت دے رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا آئے روز احتجاج مسترد، شہریوں کاحصہ نہ بننے کا اعلان
وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان الزامات کے حق میں شواہد بھی جاری کئے گئے ہیں۔




