مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران غیر قانونی اسلحہ سپلائی کرنے والا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ اس کارروائی کا آغاز ضیاء نامی شخص کی گرفتاری سے ہوا جو کہ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ شخص گزشتہ ایک دہائی سے مختلف افراد کو اسلحہ فراہم کرنے کے دھندے میں ملوث رہا ہے، جبکہ گزشتہ دو سال سے یہ اسلحہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کو فراہم کر رہا تھا۔
طلال چوہدری کے مطابق ملزم ضیاء کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب کشمیر موڑ کے قریب پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر فائرنگ کا پرتشدد واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد ملزم کو موقع پر ہی دبوچ لیا گیا، جبکہ اس کے موبائل فون کے ڈیٹا اور بیک ٹریکنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات نے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کا آئے روز احتجاج مسترد، شہریوں کاحصہ نہ بننے کا اعلان
ماجد اور سردار آمان کے ساتھ قریبی تعلقات کا انکشاف:
تحقیقات اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق گرفتار ملزم ضیاء کا رابطہ ماجد نامی ایک اور شخص سے تھا، جو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رہنما اور اہم رکن سردار آمان کے کارِ خاص بتائے جاتے ہیں۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ امورِ کشمیر کے معاملات پر مذاکرات کرنے والی شخصیات اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سردار آمان اور اس ماجد کے درمیان کتنے گہرے اور قریبی تعلقات ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے اس نیٹ ورک کے تمام شواہد اور تصاویر اکٹھی کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔




