آزاد کشمیر کے صدارتی منصب کے لیے ڈاکٹر نجیب نقی خان کی نامزدگی: خطے کی تعمیر اور نمائندگی کا نیا باب

خطہِ پلندری، سدھنوتی سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی ریاست آزاد جموں و کشمیر کے صدارتی منصب کے لیے نامزدگی ایک انتہائی خوش آئند اور تاریخ ساز اقدام ہے۔

یہ نامزدگی آزاد کشمیر کی تاریخ کے ایک ایسے عظیم اور باوقار خاندان کی خدمات کا اعتراف ہے جس کی نسلوں نے اس ریاست کی تعمیر و آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔

ڈاکٹر نجیب نقی خان تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عظیم مجاہد اور بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان کے پوتے ہیں۔

1947ء کی جنگِ آزادی میں کرنل خان محمد خان نے ڈوگرا راج اور ظالم حکمرانوں کے خلاف خطہِ پونچھ اور میرپور کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی نہیں، بلکہ تعلیمی انقلاب کے لیے انہوں نے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی۔

اسی علمی و قومی خدمت کے تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے فرزند اور ڈاکٹر نجیب نقی خان کے والد، کرنل (ر) محمد نقی خان نے خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی پیش رفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر صدارتی انتخاب، مسلم لیگ(ن) نے ڈاکٹر نجیب نقی کا نام فائنل کرلیا

آزاد کشمیر کے مایہ ناز تعلیمی ادارے کیڈٹ کالج پلندری کے قیام اور منظوری میں ان کا کردار سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہی خدمات کے اعتراف میں کالج کی عمارت اور خطے کے تعلیمی ادارے اس خاندان کی یادگاروں سے منسوب ہیں۔

اپنے آبا و اجداد کی عظیم الشان روایات کے امین ڈاکٹر نجیب نقی خان کی ایوانِ صدر میں موجودگی ریاست کو آئینی پختگی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں لڑنے کی صلاحیت فراہم کرے گی۔

اگر وہ اس اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہیں تو وہ اپنے خطے کی نمائندگی پہلے سے کہیں زیادہ شاندار اور احسن طریقے سے کر سکیں گے۔