وزارت عظمیٰ نہ ملنے پر شاہ غلام قادر حواس کھوبیٹھے،پارٹی سربراہ کے بجائے فیلڈ مارشل کو خط ارسال

مظفرآباد،اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادرحواس کھو بیٹھے

شاہ غلام قادر نے پارٹی سربراہ میاں محمد نوازشریف کو خط لکھنے کے بجائےخفیہ طور پرفیلڈ مارشل کو مبینہ طور پر لکھا گیا خط منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ۔

شاہ غلام قادر نے اپنی سیاسی ناکامی چھپانے کیلئے سیکٹر کمانڈر آزادکشمیر کیخلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کردیئے۔

صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر کے مبینہ الزامات کے بعد سنگین اور سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھنے لگے کہ آیا ایک سیاستدان خفیہ طور پر کس کیلئے کیا کام سرانجام دیتا رہا ہے ۔

یاد رہے کہ آزادکشمیر میں الیکشن کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے دوران وزارتِ عظمیٰ کیلئے شاہ غلام قادر سمیت متعدد نام زیرِ غور تھے۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے بھی اس معاملے پر مشاورت کی تھی جبکہ 23 اگست کو نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور اہم عہدوں کیلئے ناموں پر غور کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ابتدائی طور پر شاہ غلام قادر کو وزارتِ عظمیٰ کیلئے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے اجلاس میں شاہ غلام قادر کا نام بھی نمایاں امیدواروں میں شامل تھا۔

تاہم بعد ازاں وزارتِ عظمیٰ کیلئے افتخار گیلانی کا نام سامنے آیا اور بالآخر 26 اگست کو وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے وزارتِ عظمیٰ کیلئے پارٹی صدر نوازشریف کی مشاورت سے افتخار گیلانی کو بطور وزیراعظم نامزدگی کا اعلان کیا ۔

شاہ غلام قادر کا پارٹی صدر نواز شریف کے بجائے فیلڈمارشل کو خط کیوں؟

سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ سوال اس امر پر اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر شاہ غلام قادر وزارتِ عظمیٰ کے فیصلے سے ناخوش تھے تو انہوں نے پارٹی صدر نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے براہِ راست رجوع کرنے کے بجائے فیلڈ مارشل کو خط کیوں لکھا؟

یہ سوال اس لئے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کا فیصلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ہونا تھا۔

شاہ غلام قادر خود مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر صدر ہیںان کی جانب سے مبینہ طور پر عسکری قیادت کو خط لکھنے کا معاملہ پارٹی کے صدر کے فیصلوں سے انحراف کے مترادف ہے ۔

وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شاہ غلام قادر کہاں کھڑے تھے؟
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مرحلے پر مسلم لیگ (ن) کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں کے حوالے سے کئی روز تک مشاورت جاری رہی۔

23 اگست کی رپورٹس میں شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کے نام نمایاں طور پر سامنے آئے، جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے مختلف سطحوں پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔

بعد میں مقابلہ شاہ غلام قادر اور افتخار گیلانی کے درمیان سمٹتا دکھائی دیا۔ 26 اگست کی ایک رپورٹ میں بھی دونوں ناموں کو وزارتِ عظمیٰ کیلئے زیرِ غور قرار دیا گیا تھا۔

اس تمام پس منظر میں شاہ غلام قادر کا وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے محروم رہنا اور اس کے بعد مبینہ طور پرفیلڈ مارشل کو خط لکھنا شاہ غلام قادر کی سیاسی ناکامی قرار دی جارہی ہے۔

پارٹی قیادت کیلئے نیا چیلنج

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعہ کے بعد مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کیلئے بھی سوالات کھڑے کر دیئے ۔
پارٹی صدر میاں نوازشریف اور وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے فیصلوںپر اعتراض ہے تو شاہ غلام قادر کا پارٹی میں ابھی تک رہنا کئی سوالات اٹھا رہا ہے۔

دوسری جانب اگر الزامات سیاسی فیصلے سے پیدا ہونے والی ناراضی کا نتیجہ ہیں تو پارٹی قیادت کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کو سیاسی اور تنظیمی فورمز پر حل کرے تاکہ معاملہ مزید پیچیدہ نہ ہو۔

کئی اہم سوالات جواب طلب

شاہ غلام قادر کے مبینہ خط کے منظرِ عام پر آنے کے بعد متعدد سوالات بدستور جواب طلب ہیں:

کیا شاہ غلام قادر نے خط لکھنے سے قبل یا بعد میں پارٹی صدر نواز شریف سے اس معاملے پر رابطہ کیا؟
وزارتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد شاہ غلام قادر نے پریس کانفرنس کی یا کوئی مرکزی قیادت کے فیصلوں پر اعتراض کیا؟
کیا مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اس خط اور اس میں اٹھائے گئے اعتراضات کی باضابطہ تحقیقات کرے گی؟

یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت پہلے ہی کئی سطحوں پر مشاورت کر رہی تھی۔

معاملہ سیاسی بحران بننے کی طرف؟

فی الحال یہ واضح نہیں کہ شاہ غلام قادر کے مبینہ خط کے بعد معاملہ کس سمت جائے گا، تاہم اس کے مندرجات نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک حساس بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

یوں شاہ غلام قادر کی وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کے بعد سامنے آنے والا مبینہ خط آزاد کشمیر کی سیاست میں سیاسی فیصلوں، ادارہ جاتی کردار اور پارٹی قیادت کے اختیار سے متعلق کئی بنیادی سوالات اٹھا گیا ہے، جن کے جوابات آنے والے دنوں میں اس معاملے کی اصل سمت متعین کریں گے۔