مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) وزیر صحت عامہ و بہبودِ آبادی آزادکشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے محکمہ صحت عامہ اور بہبودِ آبادی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی بھرتیوں، تقرریوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے،۔
ذرائع کے مطابق وزیر صحت کی ہدایت پر نظامتِ صحت عامہ آزاد کشمیر کی جانب سے محکمہ صحت کے تمام متعلقہ اداروں، دفاتر اور شعبہ جات کو مراسلہ جاری کردیا گیا ۔
مراسلے میں دسمبر 2025 سے اب تک مشتہر کی جانیوالی تمام آسامیوں، بھرتی کے طریقہ کار، امیدواروں کی جمع کرائی گئی درخواستوں، سلیکشن کے مراحل، کامیاب امیدواروں اور نتیجتاً ہونے والی تقرریوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم،پہاڑوں پر سردی کا راج ،بکروالوں نے ڈیرے سمیٹ لئے ، واپسی شروع
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکارڈ میں نہ صرف نئی بھرتیوں بلکہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی ترقیابیوں اور دیگر تقرریوں کی تفصیلات بھی شامل کی جا رہی ہیں تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ محکمانہ امور میں قواعد و ضوابط اور میرٹ کے تقاضوں کو کس حد تک ملحوظ خاطر رکھا گیا۔
محکمہ صحت میں گزشتہ عرصے کے دوران بعض بھرتیوں اور ترقیابیوں کے حوالے سے میرٹ کو نظر انداز کرنے اور مبینہ طور پر من پسند افراد کو نوازنے کی شکایات سامنے آنے کی اطلاعات بھی ہیں۔
تاہم ان شکایات کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی اور نہ ہی کسی مخصوص تقرری یا افسر کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔
ریکارڈ طلب کئے جانے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ محکمہ صحت کے متعلقہ شعبہ جات سے موصول ہونے والی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اگر کسی بھرتی، تقرری یا ترقیابی میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آئی تو معاملے پر مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ریکارڈ میں اشتہار کی تاریخ، آسامیوں کی تعداد، متعلقہ کیڈر، بھرتی کیلئے مقررہ معیار، سلیکشن کمیٹی کی کارروائی، میرٹ لسٹ، کامیاب امیدواروں اور تقرری کے احکامات سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہوں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیشن بدلا، مگر ’پھرن‘ نہ بدلا؛ خواتین کے ہاتھوں کی روایت آج بھی زندہ
اس عمل سے یہ بھی واضح ہونے کا امکان ہے کہ آیا تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے گئے اور بھرتی کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا یا نہیں۔
محکمہ صحت آزاد کشمیر میں بڑی تعداد میں آسامیوں اور وسیع انتظامی ڈھانچے کے باعث بھرتیوں کا معاملہ پہلے ہی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ایسے میں گزشتہ چھ ماہ کی تمام تقرریوں اور ترقیابیوں کا ریکارڈ طلب کیے جانے کو محکمانہ معاملات میں شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ریکارڈ طلب کیے جانے کا مقصد فوری طور پر کسی تقرری کو غیر قانونی یا کسی فرد کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات قرار دینا نہیں بلکہ دستیاب دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔
حتمی صورتحال ریکارڈ کی جانچ اور متعلقہ حکام کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔محکمہ صحت کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے،
جس کے بعد اعلیٰ حکام کو بھرتیوں، تقرریوں اور ترقیابیوں سے متعلق تفصیلی صورتحال سے آگاہ کیے جانے کا امکان ہے۔




