وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی طرز پر دیگر قیدیوں کو بھی نجی اسپتالوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے.
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تین قیدیوں کی اپیلوں پر سماعت کی، جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے. درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ انہیں بھی بانی پی ٹی آئی کی طرح بہتر علاج کی غرض سے نجی اسپتالوں میں منتقل کیا جائے.
جیل مینول اور مساوی سلوک سے متعلق استفسار:
دورانِ سماعت بینچ کے ججز نے قیدیوں کے علاج اور قوانین سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس عامر فاروق نے مؤقف واضح کیا کہ جیل رول نمبر 197 کے تحت قیدی کے علاج کے تمام تر اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے اور اس رول میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں پایا جاتا. انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ عدالت کا ہر حکم قانون کے عین مطابق ہونا چاہیے، اور سوال اٹھایا کہ نجی اسپتال میں ہی علاج کیوں ضروری ہے جبکہ پمز (PIMS) یا پولی کلینک جیسے سرکاری اسپتالوں میں بھی علاج ممکن ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنا براہِ راست جیل مینول کی خلاف ورزی ہے.
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا وفاقی آئینی عدالت سےعمران خان جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ
جسٹس علی باقر نجفی نے تمام قیدیوں کے حقوق اور یکساں رویے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی نگاہ میں تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے. انہوں نے سوال کیا کہ اگر جیل مینول پر عمل درآمد نہیں کرنا تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے؟ قانون کے اصولوں کے مطابق کسی کے ساتھ تفریق نہیں برتی جا سکتی اور ہر شخص کے لیے الگ طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا.
وکلائے صفائی کے دلائل اور عدالتی کارروائی:
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو محض دو ماہ کے مختصر عرصے کے دوران آٹھ بار علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ طبی رپورٹس بھی نجی معالجین سے علاج کروانے کی بھرپور تمایندگی کرتی ہیں۔ وکیل نے بانی پی ٹی آئی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے ذریعے باضابطہ طور پر آئینی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔
اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تھا تو متعلقہ درخواستیں بھی وہیں دائر کی جانی چاہئیں تھیں یا پھر اسی مقدمے میں فریق بننا چاہیے تھا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگلے روز تک کے لیے ملتوی کر دی ہے.




