آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بیوٹیفیکیشن اور سڑکوں کے پیچ ورک کے نام پر لگ بھگ تیس کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے تاکہ شہر کی حالتِ زار کو بہتر بنایا جا سکے، تاہم اس منصوبے کے کام کے معیار اور نگرانی پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہر کے مختلف محکموں بشمول ترقیاتی ادارہ مظفرآباد، میونسپل کارپوریشن، تعمیرات عامہ اور شاہرات کو یہ فنڈز جاری کیے گئے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔
ترقیاتی کاموں کا ناقص معیار اور عوامی شکایات:
موجودہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر بات کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر مٹی پر تارکول بچھانے اور غیر معیاری تعمیراتی کام کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس سے عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ سی ایم ایچ روڈ، علامہ اقبال برج اور دیگر مرکزی مقامات پر جاری پیچ ورک اور بیوٹیفیکیشن کے کام عارضی نوعیت کے ہیں اور بارشوں کے بعد سڑکیں فوراً اکھڑ جاتی ہیں۔ ماضی میں بیس لاکھ روپے کی لاگت سے نصب کیے جانے والے آرائشی گھوڑوں کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا بھی انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سیٹھی باغ روڈ، ٹارکہ باغ روڈ، چیلا بائی پاس روڈ، ویسٹرن بائی پاس روڈ اور ٹالی منڈی روڈ سمیت مظفرآباد کی رابطہ سڑکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے جہاں پیدل چلنا بھی محال ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ: ایڈہاک ایکٹ کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر سماعت 23 ستمبر کو ہوگی
ٹریفک کے مسائل اور بنیادی سہولیات کا فقدان:
مظفرآباد شہر کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ایک مؤثر ٹریفک پلان کا نہ ہونا ہے۔ دفتری اوقات اور اسکولوں کی چھٹی کے وقت پورا شہر جام ہو جاتا ہے جبکہ کسی بھی سیاسی یا عوامی ریلی کے نکلنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے اہم تجارتی مراکز مثلاً مدینہ مارکیٹ میں پبلک واش رومز جیسی بنیادی سہولت کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ جگہ جگہ کھلے گٹر، پانی اور سیوریج کے ٹوٹے ہوئے پائپ، گلی محلوں میں کوڑے کرکٹ کے انبار اور اسٹریٹ لائٹس کا فقدان عوام کے لیے شدید اذیت کا باعث بنا ہوا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے اور حکومت اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں، ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنائیں تاکہ قومی خزانے کے ضیاع کو روکا جا سکے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔




