ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران پیر کو خلیجی ریاستوں سے عمان میں ملاقات کرے گا تاکہ اسٹریٹجک آبنائے ہرمز پر بات چیت کی جا سکے جبکہ بحرین نے اجلاس میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہے۔
بحرین کا کہنا ہے کہ منامہ اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے قبل ایران کے ساتھ کسی اجلاس کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمزبحالی،ایران نے امریکا کے سامنے7شرائط رکھ دیں
بحرین کی وزارت خارجہ نے خلیجی ریاستوں میں انفرا سٹرکچر پر ایرانی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی سلامتی اور استحکام ایسے حملوں کو نظر انداز کرکے، نہ اس کے اثرات پر خاموش رہ کر یا خوشنودی کی پالیسی سے اس کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
وزارت نے سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے حالیہ حملے اور بحرین میں امونیا ٹینک کو نشانہ بنائے جائے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے تقریبا بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملے ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ بات چیت حقائق کو نظر انداز کرکے نہیں کی جا سکتی۔
وزارت نے کہا کہ بحرین نے عمان کو سرکاری چینلز کے ذریعے اس سے آگاہ کیا گیا ہے۔ بحرین کی حکومت مذاکرات کے لیے پُرعزم ہے اور وہ عمان کی سفارتی کوششوں کو سراہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یمن تنازع کا حل،ایران نے مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کردی
بحرین جس نے 2016 میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے آبنائے ہرمز کو کسی امتیاز، فیس یا پرمٹ کے بغیر کھلا رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ اس ماں خلیج کی تمام ریاستوں کو شامل کیا جانے چاہیے۔
منامہ نے دیرپا امن کے لیے چار نکات پیش کیے۔ ان میں حملوں کو روکنا، بین الاقوامی سطح پر جوابدہی، نقصانات کا ازالہ، ریاست کی خود محتاری کا احترام ،کسی ایک ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دینا اور تمام زیر التوا تنازعات کا قانونی طریقے سے حل شامل ہے۔




