ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے تہران کی مقرر کردہ شرائط پوری کیے جانے تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
یہ دعویٰ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے کے حوالے سے کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یمن تنازع کا حل،ایران نے مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کردی
رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان سمندری آمدورفت کے نئے انتظامات سے متعلق حالیہ مفاہمت کے باوجود آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس مفاہمت کو صرف مستقبل میں آبنائے کھولنے کی ممکنہ بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
تسنیم کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی کا براہِ راست تعلق واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات شرائط قبول کرنے سے ہے تاہم تازہ رپورٹ میں ان ساتوں شرائط کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
ایرانی موقف کے مطابق جب تک امریکا تہران کے مطالبات پورے نہیں کرتا، آبنائے کی صورتحال معمول پر آنے کا امکان نہیں۔
یہ موقف ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان نئے شپنگ انتظامات پر مفاہمت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہےتاہم ایرانی ذرائع کے مطابق یہ سمجھوتا آبنائے کو فوری طور پر بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کی ضمانت نہیں دیتا۔
ایران پہلے بھی آبنائے کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے میں بحری آمدورفت کے مستقبل کے انتظامات میں ایرانی سلامتی اور خودمختاری کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی عوام کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے ،صدر مسعود پزشکیان کا امریکا کو دوٹوک پیغام
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈی کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ راستہ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
تازہ صورتحال میں سعودی عرب نے بھی عراق سے مبینہ طور پر آنے والے ڈرون حملے کے بعد اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ اس پائپ لائن کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پہلے ہی شدید رکاوٹیں موجود ہیں۔




