مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے مانک پیایاں مہاجر بستی میں آلودہ پانی کے استعمال سے وبائی امراض پھوٹ پڑے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق علاقے میں 350سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ نکپئیاں مہاجر بستی میں پیٹ کے مرض کی وباء نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔
آزاد کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر مصطفی بشیر کا متاثرہ بستی کا دورہ۔ متاثرہ بستی میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کا اعلان ۔
مہاجرین کمیٹی کے رہنما عزیز غزالی کے مطابق گزشتہ بیس روز کے دوران تین سو پچاس سے زائد مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کروایا گیا، جن میں سے چار مریضوں کی حالت نازک ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم کیمپس چاردیواری کی تعمیر کا آغاز،کنسٹریکشن کمپنی کیساتھ معاہدہ طے
صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے متاثرہ مہاجر بستی کا دورہ کیا اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر صحت نے بستی میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیساتھ مریضوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
ایمز ہسپتال کا دورہ کرکے زیر علاج مریضوں اور طبی عملے سے بھی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
ای پی آئی حکام نے متاثرہ علاقے میں پانی کے ممکنہ آلودہ ذرائع کی نشاندہی کیلئے کارروائی شروع کردی ہے، علاقے کے متعدد چشموں کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ مختلف بورز کے پانی کو بھی آلودہ قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی اتحاد فورم وفد کی وزیراعظم آزاد کشمیر سے ملاقات، پونچھ کے مسائل پر تبادلہ خیال
مزید چشموں اور پانی کے ذرائع سے پانی کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے بھجوائے جا رہے ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکے۔
محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ مساجد کے ذریعے اعلانات کروا کر شہریوں کو پانی ابال کر استعمال کرنے کی ہدایت کردی۔
شہریوں کو صفائی کا خیال رکھنے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ہسپتال پہنچنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پانی کے نمونوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد مزید اقدامات کئے اٹھائے جائیں گے۔




