میر پور :آزاد جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر چیمبر آف کامرس کی زیر صدارت میر پور کی کاروباری صنعتی ، تجارتی اور تعلیمی برادری سمیت مختلف شعبوں کے اہم سٹیک ہولڈرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متفقہ طور پر کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتال، کاروبار بندش سے لاتعلقی کا اظہا ر کردیا گیا۔
اجلاس میں بڑے گروپس آف کمپنیز کے نمائندگان ، صنعت کاروں، تاجروں اور تجارتی تنظیموں ، سما ل اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (SMEs)، نو جوان و خواتین و نٹر پرینیورز تعلیمی اداروں اور اکیڈیمیا کے نمائندگان نے شرکت کی اور موجودہ صورتحال کے کاروبار ،صنعت، روزگار اور تعلیم پر اثرت کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 ستمبر کی احتجاجی کال شہریوں نے مسترد کر دی
شرکاء نے متفقہ طور پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ میر پور کی کاروباری و صنعتی برادری گزشتہ عرصے کے دوران انٹرنیٹ کی طویل بندش ، لاک ڈاؤن اور کاروباری تعطل کے باعث پہلے ہی غیر معمولی معاشی نقصان برداشت کر چکی ہےجس کا مکمل تخمینہ لگانا بھی اس وقت مشکل ہے۔
صنعتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور متعدد چھوٹے کاروبار اپنی بقا کی جدو جہد کر رہے ہیں۔
اجلاس میں کہا گیا کہ انٹرنیٹ محض را بطے کا ذریعہ نہیں بلکہ کاروبار، بینکاری، صنعت، برآمدات و در آمدات، آئی ٹی، فری لانسنگ ، ای کامرس ، آن لائن ادائیگیوں اور تعلیم کا بنیادی انفراسٹرکچر بن چکا ہے۔ اس کی بندش کا مطلب ہزاروں افراد کے کاروبار اور روزگارکو براہ راست متاثر کرنا ہے۔
خصوصاً SMES ،نوجوان انٹر پرینیورز ، فری لانسرز اور گھروں سے آن لائن کاروبار چلانے والی خواتین کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بہت سی خواتین محدود وسائل کے ساتھ آن لائن کاروبار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی آمدن میں حصہ ڈال رہی ہیں، جن کے لیے انٹرنیٹ کی بندش عملی طور پران کی دکان اور ذریعہ روزگار بند ہونے کے مترادف ہے۔
اسی طرح گھروں سے قرآن پاک، دینی تعلیم اور دیگر مضامین کی آن لائن تدریس کرنے والی خواتین اور اساتذہ بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی آمدن بلکہ پاکستان اور بیرون ملک طلبہ کا تعلیمی تسلسل بھی متاثر ہوا ہے۔
اجلاس نے واضح کیا گیاکہ انٹرنیٹ کی بندش اب صرف کمیونیکیشن کی بندش نہیں بلکہ کاروبار، روز گار تعلیم اور گھریلو معیشت کی بندش بن جاتی ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ میر پور آزاد کشمیر کا ایک اہم تجارتی وصنعتی مرکز اور اور سیز کشمیریوں سے مضبوط معاشی تعلق رکھنے والا شہر ہے۔ یہاں کاروبار کا پہیہ رکنے کے اثرات صرف تاجروں اور صنعتکاروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ مزدوروں ، ملازمین ، چھوٹے کاروباروں اور ہزاروں خاندانوں تک پہنچتے ہیں۔
اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے حکومت، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، احتجاج کرنے والے فریقین اور دیگر متعلقہ حلقوں سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ میر پور کو ہر صورت پر امن ، کھلا اور کاروباری طور پر فعال رکھا جائے۔
انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز بلاتعطل جاری رکھی جائیں اور کسی بھی صورتحال میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش سے گریز کیا جائے۔ مارکیٹوں ، صنعتوں، کاروباری مراکز اور میر پور کے داخلی و خارجی راستوں کو بند نہ کیا جائے تا کہ تجارتی و صنعتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ روز روز کی ہڑتال، لاک ڈاؤن اور کاروباری بندش کے سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔ بزنس کمیونٹی پہلے ہی اس صورتحال کے باعث بھاری معاشی نقصان برداشت کر چکی ہے اور اب مزید اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اور کالعدم ایکشن کمیٹی ایک ہی سکے کے دو رخ: کالعدم کمیٹی کے احتجاجی بیانیے کو عوام نے مسترد کردیا
تمام تعلیمی اداروں کو کھلا رکھا جائے تا کہ بچوں اور نو جوانوں کو مزید تعلیمی نقصان سے بچایا جا سکے۔ SMEs، فری لانسرز ، نو جوان اور خواتین انٹر پرینیورز کے کاروبار اور روزگار کے تسلسل کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
اجلاس میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اور تمام متعلقہ فریقین تحمل، ذمہ داری اور با مقصد مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تا کہ عام شہریوں، کاروباری طبقے ، مزدوروں اور طلبہ کو مزید نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
اجلاس نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ احتجاج کرنا، اپنے مطالبات پیش کرنا اور پُر امن انداز میں اپنی آواز بلند کرنا ہر شہری اور ہر طبقے کا حق ہے اور بزنس کمیونٹی اس حق کا احترام کرتی ہےلیکن احتجاج یا ہڑتال کے نام پر کس کا کاروبار جبر اًبند نہیں کروایا جا سکتا۔
بزنس کمیونٹی روز روز کی ہڑتالوں، بار بار کاروباری بندش کی کال اور زبردستی کاروبار بند کروانے کے عمل کو واضح طور پر مسترد کرتی ہے۔ تاجر ، صنعتکار، چھوٹے کاروباری افراد اور روزانہ کی بنیاد پر روزگار کمانے والے لوگ مسلسل بندشوں سے تنگ آچکے ہیں اور پہلے ہی نا قابل تلافی معاشی نقصان برداشت کر چکے ہیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ہم کسی بھی ہڑتال یا کاروبار بند کرنے کی کال پر اپنے کاروبار بند نہیں کریں گے۔ جو شخص پر امن احتجاج کرنا چاہتا ہے، اسے اس کا حق حاصل ہے، لیکن اسی طرح ایک تاجر ، صنعتکار اور کاروباری شخص کو بھی اپنا کاروبار کلا رکھنے، روز گار کمانے اور اپنے ملازمین کا روزگار محفوظ رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیمبر آف کامرس میر پور میں ایک پر امن ، مستحکم ، مسلسل اور بزنس فرینڈ لی ماحول کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور حکومت و انتظامیہ سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہوگی اور کھلے کا روباروں، مارکیٹوں صنعتوں اور کاروباری افراد کو عمل تحفظ فراہم کرے گی تا کہ کوئی بھی کارو بارز بر دستی بند نہ کروایا جا سکے۔
ہم احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہیں، مگر روز روز کی ہڑتال، کاروباری بندش اور جبرا کاروبار بند کروانے کو مسترد کرتے ہیں۔ میر پور کے کاروبار اب چلنے چاہئیں۔ مسلسل، پر امن اور بلا رکاوٹ ۔ ۔
اجلاس میں کہا گیا کہ میر پور ایک پر امن اور کاروباری شہر ہے۔ یہاں کے لوگ امن چاہتے ہیں، کاروبار کرنا چاہتے ہیں، روزگار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور آزاد کشمیر کی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
ہم پہلے ہی بہت نقصان برداشت کر چکے ہیں اور اب مزید انٹرنیٹ بندش ، لاک ڈاؤن، کاروباری تعطل یا تعلیمی اداروں کی بندش کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
یہ بھی پڑھیں:کشمیری عوام کالعدم ایکشن کمیٹی کے فتنے سے دور رہیں، اسرار عباسی ایڈووکیٹ
اجلاس میںکہا گیا کہ میر پور کو پُر امن رہنے دیں، کاروبار کا پہیہ چلنے دیں انٹرنیٹ بلا تعطل جاری رکھیں اور ہمارے بچوں کی تعلیم اور لوگوں کے روز گار کو محفوظ بنائیں۔
میر پور کے امن، معیشت، روز گار تعلیم اور کاروبار مستقبل کا تحفظ ہم سب کی مشتر کہ ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ آج 9 ستمبر کو کالعدم ایکشن کمیٹی نے ہڑتال اور شٹرڈائون کی کال دی ہے اس سے قبل کاروباری برادری کا متفقہ موقف آنا کالعدم ایکشن کمیٹی کیلئے بڑا جھٹکا ثابت ہواہے۔




