ابابیل ہاؤس پر پولیس کا چھاپہ: سابق ایم پی اے اعجاز خان جازی گرفتار

راولپنڈی پولیس نے کالج روڈ پر واقع ‘ابابیل ہاؤس’ پر اچانک چھاپہ مار کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی اعجاز خان جازی کو ان کے دفتر سے گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائی کے دوران انصاف یوتھ ونگ کے رہنما ملک فیصل اعوان کے بھائی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس سے مقامی سیاسی فضا میں ایک بار پھر تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

منگل کو پولیس کی بھاری نفری نے راولپنڈی کے مصروف ترین علاقے کالج روڈ پر واقع ‘ابابیل ہاؤس’ کو اچانک گھیرے میں لے لیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے سیدھا سابق ایم پی اے اعجاز خان جازی کے دفتر کا رخ کیا اور انہیں بغیر کسی مزاحمت کے تحویل میں لے لیا۔ اسی کارروائی کے دوران پولیس نے وہاں موجود دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی۔ اس دوران انصاف یوتھ ونگ پنجاب کے سابق نائب صدر ملک فیصل اعوان کے بھائی کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن:

یہ تازہ ترین گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف قانونی کارروائیوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز تر ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ محض چند روز قبل، 6 ستمبر 2026 کو، سابق وزیراعظم کے انتہائی قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو بھی ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا۔ حماد اظہر تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ریونیو اور خزانہ جیسی اہم ترین وزارتوں پر فائز رہے اور کافی عرصے سے روپوش تھے۔

یہ بھی پڑھیں: طویل عرصے سے روپوش پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر ملتان سے گرفتار، لاہور پولیس کے حوالے

9 مئی کے واقعات کا سایہ:

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی حالیہ اور گزشتہ گرفتاریوں کا براہ راست تعلق 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے ہے۔ اس روز بدعنوانی کے الزامات پر سابق وزیراعظم کی مختصر گرفتاری کے بعد، ملک بھر میں مشتعل مظاہرین نے عسکری تنصیبات اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ان واقعات کے بعد سے ریاست نے سخت مؤقف اپنایا اور پارٹی کے کئی اہم رہنما مسلسل روپوشی، مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

حماد اظہر سمیت کئی رہنماؤں پر ان پرتشدد مظاہروں کی منصوبہ بندی اور اشتعال انگیزی کے مقدمات درج ہیں۔ حماد اظہر کے بعد اعجاز خان جازی کی گرفتاری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکام 9 مئی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سختی سے عمل پیرا ہیں۔ جب تک 9 مئی کے مقدمات کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے لیے سیاسی میدان میں کھلے عام سرگرم ہونا انتہائی مشکل رہے گا۔