نقشے

اقوام متحدہ میں دنیا کے نئے نقشے کی حمایت کے بعد انڈیا نے اعتراض کیوں کیا؟

دنیا کو نقشے پر زیادہ درست دکھانے کی ایک اہم عالمی کوشش سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایسی نقشہ سازی کی قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد دنیا کے خطوں، خصوصاً افریقہ، کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ پاکستان کی کاوشوں کے معترف،اسحاق ڈار سے دورہ کی دعوت دیدی

یہ قدم صرف نقشے کی تبدیلی نہیں بلکہ دنیا کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جب بات جموں و کشمیر اور لداخ کی نمائندگی تک پہنچی تو نئی دہلی نے اعتراضات شروع کر دیے۔

اقوام متحدہ کا یہ اقدام خوش آئند ہے کیونکہ نقشہ صرف لکیروں اور رنگوں کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ دنیا کو دیکھنے کا ایک زاویہ بھی تشکیل دیتا ہے۔

برسوں سے استعمال ہونے والے بعض نقشوں میں دنیا کے مختلف خطوں کے رقبے کی ایسی نمائندگی ہوتی رہی ہے جس سے بعض ممالک اور براعظم حقیقت سے کہیں بڑے یا چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

اب اقوام متحدہ نے زیادہ درست اور مساوی رقبے کی نمائندگی کرنے والی نقشہ سازی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ 4 ستمبر کو جنرل اسمبلی نے یہ قرارداد 164 ووٹوں سے منظور کی، جبکہ صرف ایک ملک نے مخالفت کی اور چھ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

یہ قرارداد کسی ملک کی سرحد کا فیصلہ نہیں کرتی، نہ ہی کسی متنازع علاقے کی قانونی حیثیت طے کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جغرافیائی حقیقت کو زیادہ درست انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

لیکن بھارت نے خود اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کی نقشے میں نمائندگی پر سخت موقف اختیار کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جائے۔

یہاں سوال بھارت سے نہیں، دنیا سے بھی ہے

اگر نقشہ صرف جغرافیائی نمائندگی کا معاملہ ہے تو پھر بھارت کو اس قدر وضاحتیں دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر دہائیوں سے عالمی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی اپنی تاریخ میں مسئلہ کشمیر موجود ہے، اس لیے کشمیر کو محض ایک سرکاری نقشے میں کسی ایک رنگ کے اندر دکھا دینے سے اس تنازعے کی تاریخی اور سیاسی حقیقت ختم نہیں ہوجاتی۔

اور یہی بھارتی اعتراض کا سب سے کمزور پہلو ہے۔

بھارت قرارداد کی حمایت بھی کرتا ہے، دنیا کو زیادہ درست نقشہ دکھانے کے اصول کو بھی تسلیم کرتا ہے، لیکن جب نقشے کی بات کشمیر تک پہنچتی ہے تو فوراً اپنی سرکاری تشریح کو حتمی قرار دینے لگتا ہے۔

نقشہ تبدیل کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، اور نقشے پر کسی علاقے کو اپنی حدود میں دکھانے سے اس کی متنازع حیثیت بھی خود بخود ختم نہیں ہوجاتی۔

ہم اقوام متحدہ کی اس کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ دنیا کو زیادہ درست جغرافیائی تصویر کے ساتھ دیکھا جائے۔

اور کشمیر کے حوالے سے بھی ہمارا مؤقف واضح ہے

کشمیر کو کسی نقشے کی سیاہی سے نہیں، اس کے تاریخی پس منظر، عوامی خواہشات اور بین الاقوامی حقائق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

بھارت جتنی چاہے وضاحتیں کرے، اعتراضات کرے یا اپنے سرکاری نقشے کو حتمی قرار دے—لیکن کسی متنازع مسئلے پر صرف نقشہ بنا دینا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔

اقوام متحدہ کا یہ اقدام کم از کم ایک مثبت پیغام ضرور دیتا ہے

دنیا کو حقیقت کے زیادہ قریب دکھانے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔

اور کشمیر کے بارے میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھال لی

حقیقت کو دیکھا جائے، تسلیم کیا جائے اور اسے نظر انداز کرنے کے بجائے مسئلے کے منصفانہ حل کی طرف بڑھا جائے۔