ایران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف مزید حملے کی صورت میں تہران کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو دیر ہونے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے قواعد تبدیل ہو چکے ہیں، ایران اس وقت ہمہ گیر جنگ لڑ رہا ہے، امریکی اڈوں پر شدید حملوں کے بعد دشمن ممالک کے رہنما مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہزاروں امریکی فوجی ایران جنگ کی تھکن اتارنے تھائی لینڈ پہنچ گئے
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی حکام کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہوچکے ہیں۔ اگر امریکا نے اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو اسے بہت دیر ہونے سے پہلے اس کا ادراک کرلینا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سیکیورٹی یا اس کے مفادات اور اثاثوں کے خلاف کسی بھی خلاف ورزی کا جواب پہلے سے زیادہ تیزی، شدت اور تکلیف دہ انداز میں دیا جائے گا۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کو متناسب ردعمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے کیوں کہ متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے اور بدلتے حالات کے ساتھ ایران نے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کردی ہے جب کہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی اڈوں سمیت مخالف اہداف کو پہنچنے والے نقصانات صرف ابتدا تھے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی حکام کی جانب سے میدانِ جنگ سے متعلق جاری کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز پر بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے جانے والے خوفناک حملوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں اور اپنے بے معنی اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے صورتِ حال کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جس کے بعد خطے میں مزید فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی موقف کے مطابق تہران اب بھی خطے کے پڑوسی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی آمدورفت روک سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی تھی۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو 6 ماہ گزر چکے ہیں۔ جون میں طے پانے والا ابتدائی جنگ بندی معاہدہ ختم ہو چکا ہے جب کہ جنگ بندی اور امن عمل بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی اب تک نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:چینی صدر کی نئے سکیورٹی ڈھانچے کے قیام کی تجویز،ایران نے حمایت کردی
جولائی کے بیشتر حصے میں فوجی کارروائیاں رکنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جوابی حملے شروع ہوگئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کو امریکی فوج نے 3 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحریہ کے 2 جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔




