آبنائے ہرمز بحالی ،ایران اور عمان کا بحری جہازوں کی آمدورفت کے نقشوں پر اتفاق

ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق نقشوں پر اتفاق کرلیا ہے جبکہ تہران نے آئندہ چند روز میں پابندی والے نئے زون کے اعلان کا عندیہ دے دیا۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے نقشوں پر عمان سے اتفاق ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران پر حملہ ہوا تو جواب تکلیف دہ ہوگا، قالیباف نے امریکا کو خبردار کردیا

محسن رضائی کے مطابق ایران اورعمان کے درمیان دستخط آئندہ چند روز میں ہوں گے، آبنائے ہرمز کے باہر پابندی والے زون کا آئندہ چند روز میں اعلان کیا جائے گا۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کا کہنا ہے کہ نیازون امریکی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج تک پھیلے گا۔

محسن رضائی نے کہا کہ نئے زون میں داخل ہر بحری جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا ایران پر حملے بند کردے تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔

یا درہےکہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے روزانہ اوسطاً 90 لاکھ بیرل تیل گزر رہا ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کرس رائٹ کا کہنا تھا کہ خطے میں پائپ لائنز کے ذریعے بھی تیل کی ترسیل جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہزاروں امریکی فوجی ایران جنگ کی تھکن اتارنے تھائی لینڈ پہنچ گئے

کرس رائٹ نے کہا کہ تیل کی اس ترسیل کا زیادہ تر انحصار امریکی بحریہ کی موجودگی پر ہے جو آئل ٹینکرز کو حفاظتی حصار فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں ممکنہ ایرانی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ آبنائےہرمز مکمل بند ہےاور کوئی بھی جہاز پاسداران انقلاب کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتاہے۔