وادی نیلم (کشمیر ڈیجیٹل) نائب صدر مسلم لیگ ن حاجی ہارون الرشید نے کہا کہ پارٹی کو تین سے32 نشستوں تک پہنچانے والے صدر شاہ غلام قادر کو وزارتِ عظمیٰ کیلئے نظر انداز کرنا لاکھوں لیگی کارکنان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
شاہ غلام قادر کو ان کے سیاسی قد، جماعتی خدمات، تجربے اور میرٹ کی بنیاد پر وزارتِ عظمیٰ کا حق دارتھے، انہیں نظر انداز کرنے کا فیصلہ کارکنان کیلئے ناقابلِ فہم اور باعثِ تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہ غلام قادر ریاست آزاد کشمیر کے ایک معتبر، زیرک اور تجربہ کار سیاستدان ہیں، جنہوں نے مشکل سیاسی حالات میں مسلم لیگ (ن) کو منظم کرنے، کارکنان کو متحد رکھنے اور جماعت کو عوامی سطح پر مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی تین نشستوں سے 32 نشستوں تک کامیابی کا سفر شاہ غلام قادر کی سیاسی حکمتِ عملی، انتھک جدوجہد اور کارکنان سے مضبوط رابطے کا واضح ثبوت ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انتظامی نظام کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ’ری سیٹ‘ کرنے کی ضرورت ہے: محسن نقوی
حاجی ہارون الرشید نے کہا کہ شاہ غلام قادر نے بحیثیت ممبراسمبلی اور قائدِ جماعت ریاستی معاملات میں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا اور نیلم سمیت آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کے متعدد منصوبوں کیلئے مؤثر کردار ادا کیا۔
ان کے دورِ سیاسی جدوجہد میں سڑکوں، مواصلات، تعلیم، صحت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات آج بھی ان کی عوامی خدمت اور سیاسی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ جیسے اہم آئینی منصب کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب محض سیاسی مصلحت کے بجائے میرٹ، جماعتی خدمات، عوامی مینڈیٹ، تجربے اور اہلیت کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے تھا۔
شاہ غلام قادر کو نامزد کرنے کے بعد ان کے حق کو نظر انداز کرنا نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے کارکنان ہی میں نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم میں مایوسی پیدا کی بلکہ اس سے ریاستی سیاست میں بھی منفی پیغام گیا ۔
ضلعی نائب صدر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کے صدر اور سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا بنیادی سیاسی فلسفہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ تھا۔
عوام اور کارکنان کے ووٹ سے منتخب ہونے والی قیادت کے مینڈیٹ اور جماعتی جدوجہد کو عزت دینا اسی نظریے کا تقاضا ہے۔
شاہ غلام قادر کی طویل سیاسی خدمات اور جماعت کو مضبوط بنانے میں کردار کو نظر انداز کرنا اس سیاسی اصول کے ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیرکےعوام اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان باالخصوص اہل نیلم شاہ غلام قادر کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر تعلیمی پیکج 2026: باضابطہ منظوری کے باوجود عملدرآمد پر سوالات برقرار
سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں انہیں اعتماد میں لے کر ان کی خدمات اور میرٹ کا تقاضا پورا کیا جانا چاہیے۔
وزارتِ عظمیٰ کیلئے ان کی اہلیت اور تجربہ سے ریاست کو فائدہ پہنچایا جا سکتا تھا وہ آزاد کشمیر کو ترقی، خوشحالی، گڈ گورننس اور عوامی خدمت کے نئے دور کی طرف لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
حاجی ہارون الرشید نے کہا کہ انصاف کے فیصلے صرف مسلط کردہ شخصیات ہی کے مرہون منت نہیں ہوتے بلکہ اللہ بہترین کار ساز ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمیر کیخلاف ووٹ نہ دیکر شاہ غلام قادر امر ہوگئے ہیں۔
کشمیری قوم شاہ غلام قادر سے دلی محبت،ہمدردی رکھتی ہے۔انہوں نے کشمیر کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1975میں وزیراعظم عبد الحمید خان کے دور اقتدار سے آج تک 16وزراء اعظموں میں جن کے ادوار میں بھی میرٹ کی پامالی ہوئی تو ان کی حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کرسکیں اور جب جب میرٹ انصاف کو مدنظر رکھا گیا تو ان وزراء اعظم کا دور اقتدار عافیت اور استحکام کا باعث بن کر حکومتی مدت پانچ سال مکمل کئیے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں حاجی ہارون الرشید نے کہا کہ جن وزراء اعظم کے دور میں میرٹ کی پامالی ہوئی وہ اپنی ساکھ بچانے میں ناکام رہے۔




