آزاد کشمیر تعلیمی پیکج 2026: باضابطہ منظوری کے باوجود عملدرآمد پر سوالات برقرار

Pakistan SCO Summit 2026

آزاد کشمیر کی سابقہ حکومت کی جانب سے تعلیمی نظام میں اصلاحات، اساتذہ کی درپیش شدید کمی کو دور کرنے، موجودہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور نئے سکولوں و کالجوں کے قیام کے لیے ‘تعلیمی پیکج 2026’ کی باضابطہ منظوری دی گئی تھی۔ تاہم منظوری کے باوجود تعلیمی حلقوں اور عوام کی جانب سے اس کے عملی نفاذ پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

سیکرٹریٹ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کابینہ کے 40ویں اجلاس میں کی گئی منظوری کی روشنی میں اس مجموعی پیکج کے لیے 2 ارب 97 کروڑ 90 لاکھ 10 ہزار روپے کے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

آسامیوں کی تقسیم اور اپ گریڈیشن کی تفصیلات

نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد کشمیر بھر کے مجموعی طور پر 1,035 تعلیمی اداروں کے لیے 3,319 نئی آسامیاں تخلیق اور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 200 تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور عملے کی درپیش کمی کو پورا کرنے کے لیے 368 آسامیاں رکھی گئی ہیں، جبکہ 653 تعلیمی اداروں کو اگلے درجے پر اپ گریڈ کرنے کی غرض سے 2,692 نئی آسامیاں مختص کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 182 نئے تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے بھی 259 آسامیاں شامل کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ؛ تعلیمی پیکج کے تحت آسامیاں منتقل کرنے پر حکمِ امتناعی جاری

عوامی حلقوں اور اساتذہ کا تشویش ناک سوال

ایک طرف حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے تعلیمی پیکج اور ہزاروں آسامیوں کا باضابطہ اعلان سامنے آیا ہے، مگر دوسری جانب سب سے بڑا چیلنج اس منصوبے کا کاغذی کارروائی سے نکل کر میدانِ عمل میں آنا ہے۔

عوامی و تعلیمی حلقے مسلسل یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کتنے ادارے اب تک عملی طور پر اپ گریڈ ہو چکے ہیں اور ان 3,319 آسامیوں پر شفاف بنیادوں پر بھرتیاں کب شروع کی جائیں گی، تاکہ آزاد کشمیر کے طلبہ اور اساتذہ کو اس تعلیمی پیکج کے حقیقی ثمرات میسر آ سکیں۔

Pakistan SCO Summit 2026