مظفرآباد( کشمیر ڈیجیتل)کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 ستمبر کو پورے آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دیدی ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں آزاد کشمیر کے ہر شہر، قصبے، گاؤں، گلی اور محلے سمیت بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے بھی احتجاج میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: 27ستمبر کو لانگ مارچ کی کال،پی ٹی آئی اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب
دکانداروں کو سخت تنبیہ
کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنما خواجہ مہران ایڈووکیٹ اپنے خطاب میں 9 ستمبر کی ہڑتال کے حوالے سے دکانداروں کو سخت تنبیہ اور دھمکیوں پراتر آئے ۔
خواجہ مہران نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو دکاندار 9 ستمبر کو اپنی دکان کھولے گا، اسے ’’غدار‘‘ قرار دیا جائے گا اور وہ اپنی دکان کے حوالے سے خود ذمہ دار ہوگا۔
خواجہ مہران نے کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قومی لانگ مارچ کی فکر کرنے کے بجائے پہلے 9 ستمبر کی احتجاجی کال کو کامیاب بنایا جائے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
لانگ مارچ کا بھی عندیہ
اعلامیے اور خواجہ مہران کے خطاب میں آئندہ مرحلے کے طور پر لانگ مارچ کا بھی عندیہ دیا گیا۔ خطاب میں کہا گیا کہ ’’لانگ مارچ کی کال بھی دور نہیں‘‘، تاہم اس حوالے سے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکومتی مؤقف اور قانونی پس منظر
دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔
جون 2026 میں حکومت کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق تنظیم کو امن و سلامتی کے لیے خطرہ، انتشار اور خوف و ہراس پھیلانے سمیت دیگر الزامات کے تناظر میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نوجوانوں کو فورسز پر حملوں کے لیے اکسایا: ایس ایس پی خاور علی شوکت
حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ پُرامن احتجاج شہریوں کا حق ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے، راستے بند کرنے اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکومت کی جانب سے کمیٹی کے بعض رہنماؤں، جن میں خواجہ مہران ارشد اور شوکت نواز میر شامل ہیں، کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
ادھر حکومت کی جانب سے ستمبر 2026 میں جاری پیش رفت رپورٹ کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ مطالبات میں سے متعدد پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور مزید مطالبات پر پیش رفت جاری ہے۔
9 ستمبر کی کال کے بعد آزاد کشمیر میں کاروباری سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ اور معمولاتِ زندگی پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے صورتحال پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ کمیٹی کی جانب سے اسے آئندہ قومی لانگ مارچ کی تیاری کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔




