پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے انگلینڈ کے خلاف دو مسلسل ناکامیوں کے بعد قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کا دفاع کیا ہے۔
لندن میں ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برمنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے یہ قدم اٹھانا انتہائی ضروری تھا۔
یہ بھی پڑھیں:انگلینڈ کیخلاف تیسرا ٹیسٹ، قومی ٹیم نئے عزم کیساتھ برمنگھم پہنچ گئی
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی تنقید سے ڈر محسوس نہیں کیا اور نہ ہی کبھی ڈروں گا۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بھارت کو آئرلینڈ جبکہ جنوبی افریقا کو نمیبیا سے شکست ہوئی، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت اور جنوبی افریقا کی کرکٹ بھی ختم ہوگئی؟
انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے، کھلاڑیوں کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سلیکشن میں غلطی ہوسکتی ہے اور اس پر سلیکٹرز بھی جوابدہ ہیں۔
واضح رہے کہ انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو ایک اننگز اور ایک سو تین رنز سے شکست دی تھی جبکہ لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے دوسرے میچ میں ایک سو چورانوے رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز اپنے نام کی۔
اس خراب کارکردگی کے بعد پی سی بی نے ایکشن لیتے ہوئے محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا سمیت سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ڈراپ کر کے ان کی جگہ سات نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا تھا۔
پی سی بی چیئرمین نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہےلیکن ساتھ ہی انہوں نے محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹیم کی پیشرفت کا ذکر بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت ون ڈے رینکنگ میں پانچویں اور ٹی 20رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پچھلی چھ ون ڈے سیریز میں سے چار میں فتح حاصل کی ہے جبکہ ٹی 20میں ہماری کامیابی کا تناسب چوبیس فیصد سے بڑھ کر تہتر فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
کرکٹ میں تباہی کی باتوں کو رد کرتے ہوئے محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ تباہ ہو گئی ہے، وہ ذرا ماضی کی رینکنگ اٹھا کر دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کو نامیبیا سے اور بھارت کو آئرلینڈ سے شکست ہوئی، کیا وہاں کرکٹ ختم ہو گئی؟ ہمارے لیے ہر ایک میچ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
کھلاڑیوں کے ڈراپ کیے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ سلمان علی آغا ایک زبردست کھلاڑی ہیں لیکن وہ اس سیریز میں پرفارم نہیں کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:شعیب ملک کا چوتھی شادی کی افواہوں پر ردعمل: خبریں من گھڑت قرار
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی کھلاڑی کو باہر نکالنا نہیں ہے لیکن اگر کوئی کارکردگی نہیں دکھائے گا تو تبدیلی ضرور کی جائے گی، کیونکہ ٹیسٹ سیریز میں ہمیں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ کسی بھی کھلاڑی کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے اور ان کا اعتماد اب بھی ٹیم پر بحال ہے۔




