اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) حقوق کے حصول، احتجاج اور حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کو جمہوری حق قرار دینے والی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےسرگرم بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے طرزِ عمل اور زبان درازی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اکاؤنٹس پر ریاستی اداروں، پولیس اور پاکستان کے حامی شہریوں کے خلاف مبینہ طور پر سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے، جس سے احتجاجی تحریک کے مقاصد اور بیانیے سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حریت رہنما یاسین ملک کا مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اس طرزِ بیان کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹس کو کون چلا رہا ہے، ان کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اور ان کے بیانیے سے سیاسی طور پر فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔
تاہم ناقدین نے واضح کیا ہے کہ ان سوالات کو کسی مخصوص ملک یا بیرونی قوت سے تعلق کے الزام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی تحریک کا لبِ لباب نفرت، تقسیم یا اپنے ہی شہریوں اور ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک پر مبنی ہو جائے تو کیا اس کے مجموعی اثرات پر غور نہیں کیا جانا چاہیے؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے اختلاف، حقوق کا مطالبہ اور پرامن احتجاج جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں، تاہم اختلافِ رائے کے اظہار میں زبان اور طرزِ عمل بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت سازی : ن لیگ کے 9منتخب اراکین اسمبلی مظفرآباد طلب
دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عوامی تحریک کی مضبوطی اس کے مطالبات، دلیل اور عوامی حمایت سے ہوتی ہے، جبکہ اشتعال انگیز یا توہین آمیز زبان اس کے اصل مطالبات کو پسِ پشت ڈال سکتی ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی یا اس سے وابستہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ان اعتراضات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے یا نہیں، یہ بھی اس معاملے میں اہم سوال ہے۔




