حویلی (رپورٹ: حماد الحسنین بخاری، کشمیر ڈیجیٹل) — یونین کونسل کالامولا کے گاؤں جلال آباد سولی میں زعفران کی کاشت کے فروغ اور مقامی کاشت کاروں کو جدید طریقوں سے آگاہ کرنے کیلئے ایک اہم تربیتی و مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کا اہتمام حمزہ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے پاکستان پاورٹی ایویلیشن اور ٹیکا کے تعاون سے کیا، جس میں مقامی کاشت کاروں نے شرکت کی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹائمز اسکوائر پر چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر جاں بحق
اس موقع پر شرکاء کو زعفران کی کاشت، اس کیلئے موزوں ماحول، کاشت کے طریقہ کار اور مستقبل میں اس فصل کو آمدن کا ذریعہ بنانے کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
اجلاس کے دوران مقامی سطح پر منظم کاشت کاری اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے ولیج آرگنائزیشن کی ازسرِنو تشکیل بھی عمل میں لائی گئی، تاکہ علاقے کے کاشت کار زعفران سمیت دیگر زرعی سرگرمیوں میں مشترکہ طور پر آگے بڑھ سکیں۔
حمزہ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے کوآرڈینیٹر سرفراز راٹھور نے کہا کہ زعفران کی کاشت علاقے کے لوگوں کیلئے روزگار اور آمدن کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے سیزن میں زعفران کی کاشت کے بعد مقامی سطح پر سیڈ بینک قائم کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے مستقبل میں مزید کاشت کار اس فصل کی طرف راغب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ زعفران کی کاشت کو محض ایک موسمی سرگرمی کے بجائے ایک منظم زرعی منصوبے کے طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کو اس کے معاشی فوائد مستقل بنیادوں پر حاصل ہو سکیں۔
مقامی سطح پر منعقد ہونے والے اس پروگرام کو زعفران کی کاشت کے ذریعے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور کاشت کاروں کو متبادل آمدن کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔




