بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے اوورسیز پاکستانیوں کے لیےسینیٹ کمیٹی کی ٹیکسوں میں کمی کی سفارش

Pakistan SCO Summit 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے بیرون ملک سے لائے جانے والے درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو ان میں فوری کمی لانے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔ سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں موبائل فونز کی قیمتوں کے تعیّن اور ٹیکس عائد کرنے کے موجودہ طریقہ کار پر سیرحاصل گفتگو کی گئی۔

اجلاس کے آغاز میں سینیٹ کمیٹی نے ملک میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز کی قیمتوں اور ان پر لاگو ٹیکسوں کے جامع طریقہ کار پر غور و خوض کیا۔ اس دوران کمیٹی کی جانب سے کسٹمز حکام کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ درآمد شدہ فونز پر عائد ٹیکسوں کے حوالے سے ایک انتہائی مؤثر، شفاف اور منصفانہ میکنزم تیار کریں۔ مزید برآں، کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹیرف کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ موبائل فونز پر ٹیکس کی موجودہ شرح سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے جلد از جلد پیش کریں۔

کسٹمز اور ایف بی آر حکام کی بریفنگ:

کمیٹی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نمائندہ حکام نے پالیسی امور پر روشنی ڈالی۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ آئینی و قانونی طور پر کسی بھی شے پر نیا ٹیکس عائد کرنا یا سابقہ ٹیکس کو ختم کرنا مکمل طور پر پارلیمنٹ کا اختیاراتی ساحہ ہے۔ اسی دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے بھی اجلاس کو ملک میں فونز کی پیداوار سے متعلق بریفنگ دی۔ پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 35 مختلف کمپنیاں مقامی سطح پر اسمارٹ فونز تیار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موبائل فون کی مقامی تیاری میں نمایاں اضافہ، سستے فون کی راہ ہموار

موجودہ ٹیکس پالیسی پر اراکینِ سینیٹ کا شدید ردعمل:

اجلاس میں موجود سینیٹ اراکین نے حکومت کی موجودہ ٹیکس پالیسی پر گہری تشویش اور شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ سینیٹر عبدالقادر نے اپنے موقف میں زور دیا کہ اس نقطے پر نہایت سنجیدگی سے غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا موبائل فونز پر ٹیکس عائد ہونا بھی چاہیے یا نہیں۔ دوسری جانب سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ حکومت بے جا اور اضافی محصولات عائد کر کے عام عوام کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کے استحصال کے بجائے ملک میں کاروبار اور شہریوں کو آسانیاں اور سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ اس موقع پر سینیٹر دلاور خان نے معاشی منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ہمارے ملک میں تجارتی اور معاشی پالیسیاں طویل المدتی بنیادوں پر تشکیل نہیں دی جاتیں۔

سیکریٹری کابینہ کی جانب سے سیلز ٹیکس کی مخالفت:

کمیٹی اجلاس کے دوران سیکریٹری کابینہ کامران علی نے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی عائدیدگی کی صریح اور سخت مخالفت کی۔ انہوں نے اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں ہمارے قومی اور معاشی نظام میں ایک بڑا انقلاب برپا کر رہی ہیں۔ سیکریٹری کابینہ نے زور دیا کہ اس جدید دور میں ٹیکنالوجی اور موبائل فونز تک ہر عام شہری کی رسائی کو آسان اور ممکن بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے کا بڑا اقدام: پری پیڈ موبائل بیلنس کی میعاد 180 دن مقرر

Pakistan SCO Summit 2026