اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیر دفاع خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مودی نے پہلے جنگ کے میدان میں اب عالمی عدالت میں بھارت کو ذلیل کروا دیا
وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’التوا‘ میں رکھنے کا فیصلہ قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں، جبکہ عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی توثیق کردی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے ، مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق
خواجہ آصف نے کہا کہ مستقل عدالتِ ثالثی نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی معطل، بلکہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے پیش کیے گئے مختلف جوازوں کا جائزہ لیا، تاہم خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، دہشت گردی کے الزامات، حالات میں بنیادی تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات سمیت کوئی بھی بنیاد بھارت کے اقدام کو قانونی جواز فراہم نہیں کرتی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عدالت نے دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات کا بھی جائزہ لیا اور واضح کیا کہ حتیٰ کہ بھارت کے الزامات کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں بھی وہ سندھ طاس معاہدے کی ایسی سنگین خلاف ورزی ثابت نہیں کرتے جس کی بنیاد پر معاہدہ معطل یا ختم کیا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گلوریا شہزادی کو نہیں جانتا، منگنی کا فیصلہ ہوا تو اعلان خاندان ہی کرےگا، بلاول
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے تحت اسے بھارت اور پاکستان کی باہمی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر تبدیل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
Court of Arbitration: Award on Treaty Status and Order on Interim Measures – 31 August 2026
▪️ The Court unanimously concluded that India’s decision to hold the Indus Waters Treaty in “abeyance” was not permissible under the Treaty or other applicable rules of international law.… https://t.co/hvXxUL9Pd6
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 31, 2026
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’گزشتہ سال میدانِ جنگ میں بھارت کی شرمناک اور جامع شکست کے بعد بھارت ایک بار پھر مستقل عدالتِ ثالثی میں شکست سے دوچار ہوا ہے۔ پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے مؤقف درست ثابت ہوا۔ الحمدللہ۔‘‘
خواجہ آصف کے مطابق عدالت کا فیصلہ پاکستان کے قانونی اور سفارتی مؤقف کی اہم تائید ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پابندی دونوں ممالک کے لیے لازم ہے۔




