مغربی افریقی ملک نائجر میں فوجی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ناکام ہوگئی اور درجنوں باغی فوجی مارےگئے اور متعدد گرفتار کرلئے گئے۔
دارالحکومت نیامی میں اہم فوجی ہوائی اڈے اور صدارتی محل کے آس پاس کے علاقوں میں شدید لڑائی ہوئی۔کئی گھنٹوں کی لڑائی کے بعد حکومتی فورسز نے فضائی اڈے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں بیٹھ کر ریاستی اداروں پر کیچڑ اچھالنا، میرپور کے عمران شیخ کے خلاف بغاوت اور دھمکیوں کا مقدمہ درج
خبر ایجنسی کے مطابق نیامی کا مذکورہ ہوائی اڈہ فوجی طیاروں اور ڈرونز کے علاوہ ساحلی ریاستوں کے اتحاد (AES) کی انسداد دہشت گردی یونٹ کا مرکز بھی ہے۔
اس اتحاد میں نائجر، مالی اور برکینا فاسو شامل ہیں۔ اس فضائی اڈے پر روسی اور اطالوی فوجی بھی تعینات ہیں۔
دوسری جانب روسی میڈیا کے مطابق نائجر حکومت کی درخواست پر روس نے بغاوت پر قابو پانے میں مدد فراہم کی۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق نائجر کی افواج نے روس کے زیر انتظام نیم فوجی دستے افریقا کور کی مدد سے باغیوں کا حملہ پسپا کیا۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں نائجر کی حمایت جاری رکھےگا،صورتحال صدر جنرل عبد الرحمان تیانی کی قیادت میں قانونی حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
خیال رہےکہ رواں سال نائجر میں حکومت کا تختہ الٹنےکی یہ تیسری کوشش تھی۔خبر ایجنسی کے مطابق اس حملے نے نائجر کی مسلح افواج کے اندر موجود کشیدگی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
واضح رہےکہ نائجر مغربی افریقا کا یورینیئم، تیل اور سونے کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔ جولائی 2023 میں صدر محمد بازوم کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے ملک پر فوجی حکمران جنرل عبد الرحمان تیانی کی حکومت ہے۔




