ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر باضابطہ قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
حکومت آزاد جموں و کشمیر نے شوکت نواز میر کے خلاف ایسی تقاریر، تحریروں، اشاعتوں اور الیکٹرانک مواصلات کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے جو دفعہ 124-A تعزیراتِ آزاد جموں و کشمیر کے تحت جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق دستیاب ریکارڈ اور مواد کا جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا گیا ہے کہ الزامات قانون کے مطابق مزید تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ دونوں معاملات میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت متعلقہ ضلعی پولیس سربراہان کو تحقیقات مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرپور پولیس کی بڑی کارروائی:کالعدم ایکشن کمیٹی کے 4 کارندے پُرتشدد سامان سمیت گرفتار
آڈیو لیک اور راولاکوٹ کے پرتشدد واقعات میں مماثلت:
محکمہ داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق دونوں افراد کے خلاف دستیاب شواہد اور ریکارڈ مزید تحقیقات کے متقاضی قرار دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 6 جون کی مبینہ لیک آڈیو کال میں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد راولاکوٹ میں ریاستی اداروں کے خلاف تخریبی کارروائیوں، محاصرے اور تصادم کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جسے گزشتہ شب متعدد قومی میڈیا اداروں نے نشر کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیک آڈیو میں سامنے آنے والی گفتگو اور بعد ازاں راولاکوٹ میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے درمیان مماثلت نے تحقیقات کو مزید تقویت فراہم کی ہے، اور تحقیقاتی ادارے مبینہ منصوبہ بندی، اشتعال انگیزی، رابطہ کاری اور بعد میں پیش آنے والے واقعات کے باہمی تعلق کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
ضلعی پولیس سربراہان کو چالان پیش کرنے کی ہدایات:
حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے متعلقہ عدالتوں میں چالان پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس تفتیش کے دوران ریاستی اداروں پر حملوں، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے، امن عامہ میں خلل ڈالنے اور تشدد پر اکسانے کے تمام پہلوؤں کو شامل کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا واضح کہنا ہے کہ پرتشدد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، معاونت یا حوصلہ افزائی کرنے والے تمام عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔




