امریکی پابندیاں ملکی معیشت پر اثر انداز،پیٹرول مہنگا کرنا ہوگا،ایرانی صدر

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی پابندیوں کے ملکی معیشت پر اثرانداز ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے باعث ملک کی درآمدات اور برآمدات میں حالیہ مہینوں کے دوران 25 سے 35 فیصد تک کمی آئی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر پزشکیان نے سرکاری ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پابندیوں کا بالکل کوئی اثر نہیںہو رہا، ان کے پاس کہنے کے لیے ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے مذاکرات کو تیار، ایران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کے پابند نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ کی صورت حال میں ہیں اور ہمیں جنگی حالات کو تسلیم کرنا ہوگا۔

صدر پزشکیان کے مطابق امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث حالیہ مہینوں میں ایران کی درآمدات اور برآمدات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ تجارت میں کمی کے پیش نظر ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمیں تیسرے درجے کے کوٹے کی قیمت بڑھانی چاہیے، مثال کے طور پر اسے پانچ ہزار تومان سے بڑھا کر 10ہزار تومان کر دینا چاہیے۔

ایران میں پیٹرول کی قیمت صارفین کیلئے مقرر کردہ مختلف استعمال کے کوٹے کے تحت طے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئے

ایران ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جہاں دنیا کے سستے ترین ایندھن میں شمار ہونے والا پیٹرول برسوں سے بڑے پیمانے پر حکومتی سبسڈی کے ذریعے کم قیمت پر فراہم کیا جاتا رہا ہے۔اسی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں کسی بھی اضافے کو سیاسی طور پر حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔