اپنا گھر بنانے کے خواہشمندوں کو حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام میں درخواستوں، منظور شدہ قرضوں اور مالی معاونت کے حجم میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

پروگرام کے تحت منظور شدہ قرض 144 ارب روپے سے بڑھ کر 279 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ اگست کے وسط تک ان میں سے 38 ارب روپے سے زائد رقم عملی طور پر جاری کی جاچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھکاری خاتون کی موت کے بعد گھر سے نوٹوں کی 30 بوریاں برآمد

پروگرام میں قرض کی مدت بڑھانے، مکان کی قیمت کے زیادہ حصے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے اور غیر رسمی آمدنی رکھنے والے افراد کو قرض کی سہولت دینے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال سے بڑھا کر 30 سال کردی گئی ہے۔

قرض کی مدت میں اضافے سے گھر بنانے یا خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے ماہانہ قسط کم ہونے کا امکان ہے، جس سے کم اور متوسط آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے قرض کی ادائیگی نسبتاً آسان ہوسکتی ہے۔

قرض کی واپسی کو زیادہ طویل مدت میں تقسیم کرنے سے ماہانہ مالی بوجھ کم ہوسکتا ہے اور درخواست گزاروں کو اپنے گھریلو بجٹ کے مطابق اقساط ادا کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔

پروگرام کے تحت غیر رسمی آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے بھی قرض تک رسائی آسان بنانے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ دکاندار، فری لانسرز اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد مخصوص شرائط پوری کرنے کی صورت میں قرض حاصل کرسکیں گے۔

یہ سہولت ان افراد کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جن کی آمدنی باقاعدہ تنخواہ یا روایتی ملازمت کے ذریعے نہیں آتی۔ ایسے درخواست گزار مقررہ معیار پر پورا اترنے اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت ثابت کرنے کی صورت میں پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف9 ہزار روپے ماہانہ دیں اور نئی موٹر سائیکل گھر لے جائیں

وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام میں منظور شدہ مالی معاونت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پروگرام کے تحت منظور شدہ قرض 144 ارب روپے سے بڑھ کر 279 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو تقریباً 94 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

اگست کے وسط تک منظور شدہ 279 ارب روپے میں سے صرف 38 ارب روپے سے زائد رقم عملی طور پر جاری ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منظور شدہ قرض اور حقیقی طور پر جاری ہونے والی رقم کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے اور پروگرام کی کامیابی کے لیے قرضوں کے بروقت اجرا پر توجہ دینا ضروری ہے۔

منظور شدہ درخواستوں کی تعداد بھی جون کے تقریباً 25 ہزار سے بڑھ کر 46 ہزار سے زائد ہوگئی ہے، جبکہ جاری کیے گئے قرضوں کی تعداد 7600 سے زیادہ رہی ہے۔

ہاؤسنگ پروگرام میں ایک اہم سہولت کے تحت بینک اب مکان کی قیمت کے 90 فیصد تک قرض فراہم کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 60 لاکھ روپے مالیت کے گھر کے لیے زیادہ سے زیادہ 54 لاکھ روپے تک قرض حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اس سہولت سے ان افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو گھر کی مجموعی قیمت کا بڑا حصہ خود ادا کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔ تاہم قرض کی منظوری درخواست گزار کی اہلیت اور پروگرام کے مقررہ ضوابط کے مطابق ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 40 لاکھ روپے قرض پر ماہانہ قسط کی تفصیلات

اپنا گھر پروگرام میں شہریوں کی جانب سے درخواستوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جون میں درخواستوں کی تعداد تقریباً 91 ہزار تھی جو بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 39 ہزار ہوگئی ہے۔

اسی عرصے میں منظور شدہ درخواستوں کی تعداد 25 ہزار سے بڑھ کر 46 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ درخواستوں اور منظور شدہ کیسز میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں کی جانب سے گھر کی تعمیر یا ملکیت کے لیے حکومتی مالی معاونت حاصل کرنے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔