لندن(کشمیر ڈیجیٹل) تحریک آزادی کشمیر کے رہنما اور کشمیر المسلمز کے چیئرمین نذیر احمد قریشی نے بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے مقبوضہ جموں وکشمیر کے حالیہ دورہ اور مسئلہ کشمیر پر لب کشائی پر حیرانگی اور تعجب کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ غیرملکی سفراء نہ صرف حالات واقعات سے متعلق بھرپور معلومات رکھتے ہیں بلکہ تاریخی حقائق سے بھی واقف ہوتے ہیں اور جب بات تنازعہ کشمیر کی ہو جو 79 برسوں سے تصفہ طلب اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہنوز عملدرآمد کی منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں امریکہ جیسے ملک کا سفیر جموں وکشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے تو ان کی لاعلمی اور تاریخ سے نابلد ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی سفیر کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق متنازعہ بیان، پاکستان کا شدید احتجاج، امریکی ناظم الامور طلب
نذیر احمد قریشی نے کہا کہ امریکی سفیر سرجیو گور کو مشورہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی نوعیت کا مطالعہ کریں تاکہ انہیں احساس ہو کہ انہوں نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے جو تاریخی ناانصافی کی اس کا ازالہ ہوسکے۔
نذیر احمد قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جس سے خود بھارتی حکمران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیکر گئے جہاں بھارت نے اقوام عالم کو گواہ ٹھہرا کر کشمیری عوام کو آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، البتہ 79 برس ہوچکے ہیں۔
بھارت اپنے وعدوں سے نہ صرف مکر گیا بلکہ کشمیری عوام جب جب اپنے بنیادی حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کےسینے گولیوں سے چھلنی کئےجاتے ہیں۔
1989 سے لیکر اب تک ایک لاکھ کے قریب کشمیری بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، کھیت و کھلیان تباہ اور ہزاروں ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و عصمت بھارتی درندے تار تار کرچکے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی سفیر کا مسئلہ کشمیر پر بیان یواین قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی، سید صلاح الدین احمد
انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا تھا کہ امریکہ جو خود کو دنیا میں امن کا علمبردارکہلواتا ہے کا سفیر مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی دہشتگردی اور دس لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کا نوٹس اور مذمت کرتے الٹا انہوں نے ایسا بے تکا بیان دیا جو اہل کشمیر کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ آزادی پسند قیادت کیساتھ ساتھ بھارت نوازوں نے بھی امریکی سفیر کے بیان کو ناپسندیدہ اور مضحکہ خیز قرار دیکر مسترد کیا ہے۔
نذیر احمد قریشی نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں اپنے سفیر کو طلب کرکے متنازعہ بیان کی وضاحت طلب کرے تاکہ آئندہ کوئی امریکی سفیر اس قسم کی بیہودہ بیان بازی سے گریز کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ، جس کی گواہی کنٹرول لائن کی دونوں جانب اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی موجودگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، جس میں اب تک لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ بھارت کو دیر یاسویر کشمیری عوام کے اس حق کے سامنے سرنگوں ہونا پڑے گا یہی تاریخ کا سب سے بڑا سچ ہے۔




