مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین اور امیر حزب المجاہدین سید صلاح الدین احمد نے بھارت میں تعینات امریکی سفیر سیرجیو گور کے دورہ سرینگر کے دوران دیئے گئے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے ایک آڈیو پیغام میں سید صلاح الدین احمد نے کہا کہ امریکی سفیر کا مقبوضہ جموں و کشمیر کو “بھارت کا لازمی حصہ” قرار دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور قانون کے لحاظ سے ناقابلِ دفاع ہے۔ ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت اور مسترد کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس ختم، وزیراعظم آزادکشمیر کے 2 نام فائنل ، اعلان آج متوقع
یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو قراردادوں 47 اور 122 کی کھلی خلاف ورزی ہے جو جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہیں۔
انھوں نے کہاکہ یہ بیان امریکہ کی اپنی دیرینہ پالیسی اور اصولی مؤقف کے منافی ہے جس کے تحت امریکہ ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو متنازعہ مانتا رہا ہے۔ سید صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ بیان مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی حقیقت کو جھٹلاتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حالات معمول پر، مظفرآباد سمیت آزادکشمیر بھر میں سرگرمیاں بحال
جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، بھارتی فوجی محاصرے اور بنیادی آزادیوں کا منظم طریقے سے قتل عام ہو رہا ہے۔ یہ بیان کروڑوں کشمیریوں کے جذبات پر وار ہے جو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا اور اپنی بقا کا بنیادی مسئلہ سمجھتے ہیں۔
سید صلاح الدین احمد نے حکومتِ پاکستان سے تین مطالبات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفیر کے اس بیان کی فوری واپسی کروائی جائے،امریکی محکمہ خارجہ سے اس حوالے سے رسمی وضاحت طلب کی جائے،امریکی سفیر سیرجیو گور سے غیر مشروط معافی اور سفارتی جواب دہی کا مطالبہ کیا جائے، سیرجیو گور کے یہ ریمارکس ان کے عہدے اور سفارتی آداب کے بالکل منافی ہیں۔
آ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ایسے بے بنیاد اور غیر حقیقی بیانات کشمیری عوام کی جاری دلیرانہ و مثالی جدوجہد اور ان کے سیاسی مستقبل کے حتمی فیصلے یعنی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے حق کو متاثر نہیں کر سکتے۔




