نیپال :طوفانی سیلاب ، 72 افراد ہلاک،384غیر ملکی سیاح لاپتہ

اُدین ڈھونگا، نیپال (کشمیر ڈیجیٹل)چین کی سرحد کے قریب اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات کے بعدتقریبا 384سیاحوں اور مسافروں سمیت فوجی اور پولیس اہلکاروں کے لاپتہ ہوگئے ۔

نیپال کے وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کو قدرتی آفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اچانک آنے والے سیلاب میں بیرکیں بہہ جانے کے بعد سرکاری اہلکار، فوجی اور پولیس اہلکار بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ شمالی سرحد کے پار چین کی حکومت نے بھی تلاش اور بچاؤ کی کوششیں شروع کردیں جس میں گیارونگ کے سرحدی علاقے میں بڑی جانی نقصان ہوا ہے۔

نیپال میں حکام کے مطابق 384 سیاح لاپتہ ہیں جن میں 291 امریکہ، برطانیہ اور ملائیشیا جیسے ممالک سے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حملوں کے باوجود سڑکوں کی بحالی کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری رہےگا، آزادکشمیر پولیس

ٹورازم بورڈ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ممکنہ طور پر ہندوستانی تارکین وطن تبت میں ماؤنٹ کیلاش کی زیارت پر تھے، جو ہندوؤں ،کیلئے مقدس مقام ہے۔

نیپال ٹورازم بورڈ نے الگ سے بتایا کہ اس نے 384 لاپتہ ہونیوالے افراد کا ریکارڈ درج کیا ہے، جبکہ روزنامہ کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق 72افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ٹورازم بورڈ کے مطابق حکام متاثرہ علاقوں میں موجود یا وہاں سے گزرنے والے سیاحوں اور مسافروں کے بارے میں ان کے مقام اور محفوظ ہونے کی صورتحال کی تصدیق کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایک ضلع میں سیلاب کے باعث بیرکیں بہہ جانے کے بعد 29 پولیس اہلکار اور نیپالی فوج کے 44 اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔

حکومتی اندازوں کے مطابق سیلاب میں 19 پل بہہ گئے، 40 کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچا جبکہ 13 ہائیڈرو پاور منصوبے بھی متاثر ہوئے، جبکہ قریباً 200 ٹرک بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

وزیر حکومت نے بتایا کہ بدھ کے روز سرحدی علاقے میں زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرا اور بالآخر چین کے تبت کے علاقے میں برفانی جھیلیں پھٹنے کا سبب بنا۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ سیلاب کے باعث بڑی تعداد میں ہائیڈرو پاور منصوبے، سرکاری دفاتر اور سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیرحکومت سازی: وزیراعظم شہبازشریف نے شاہ غلام قادر، بیرسٹر افتخار گیلانی کو طلب کرلیا

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 37 منٹ پر نیپال کے گاؤں کوڈاری میں 4.4 شدت کا زلزلہ آیا، جو چین کے تبت سے متصل علاقے میں واقع ہے۔

سرحد کے دونوں جانب بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

لاپتا افراد میں نیپال، بھارت، برطانیہ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد دیگر افراد کی قومیت کی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور رافٹنگ بورڈز سے لیس نیپال پولیس، مسلح پولیس اور نیپالی فوج کے اہلکاروں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوب مغربی چین کے شیزانگ خودمختار خطے میں دونوں ممالک کو ملانے والی ایک اہم زمینی گزرگاہ کے قریب مٹی کا تودہ گرا۔

رپورٹ کے مطابق قدرتی آفت کے باعث چینی جانب بندرگاہ تک جانے والی سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔