اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں ہسپتال میں ہنگامی راستوں کی بندش، آگ سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو شدید ناکافی اور معیار سے کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق صبح 6 بج کر 55 منٹ پر اطلاع ملتے ہی 6 منٹ کے اندر پہلی گاڑی موقع پر پہنچ گئی تھی، تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران شدید رکاوٹیں پیش آئیں۔ رپورٹ کے مطابق نرسری وارڈ میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کے باعث لگی۔
ناقص سیکیورٹی، بلاک شدہ ایمرجنسی راستے اور عملے کی غیر حاضری:
سی ڈی اے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پمز کے نرسری وارڈ میں فائر اور لائف سیفٹی کے انتظامات ناپائیدار اور انتہائی ناقص تھے۔ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر لاک تھے اور ان میں مختلف رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں، جس کے باعث جان بچانے کا عمل شدید متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ ہسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے فائر ٹیم کے ابتدائی ریسپانس میں بھی رکاوٹ پیدا کی گئی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم کا سخت اقدام، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری عہدے سے برطرف
ریسکیو ذرائع اور متاثرہ بچوں کے والدین کے مطابق آگ لگنے کے وقت انکیوبیشن سینٹر کے اندر کوئی ڈاکٹر، وارڈ بوائے یا دیگر طبی عملہ موجود نہیں تھا اور تمام عملہ غائب تھا۔
جانی نقصان، ریسکیو آپریشن اور حکومتی ایکشن:
اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال (MCH) کے وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو آپریشن میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز، ایک ریسکیو وین، واٹر باؤزر اور 44 آپریشنل اہلکاروں نے حصہ لیا۔
اس دلخراش واقعے کے بعد حکومت نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر عہدے سے معطل کر دیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے۔۔۔ریسکیو اہلکار کا موقف pic.twitter.com/Uw1MoQ1jpj
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) August 26, 2026




