پمز اسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم کا سخت اقدام، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری عہدے سے برطرف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کے لیے تمام متعلقہ حکام اور تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان کو فوری طور پر وزیراعظم ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ واقعے کا جائزہ لیا جا سکے اور ذمہ داروں کا حتمی تعین کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود بچے جاں بحق

اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل:

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان اس تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جبکہ کمیٹی کے دیگر ممبران میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان شامل ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی 8 رکنی انکوائری کمیٹی:

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ انکوائری کمیٹی آتشزدگی کے واقعے اور آگ لگنے کی بنیادی وجوہات کا مکمل اور تفصیلی تعین کرے گی۔

کمیٹی کے ممبران اور رپورٹ پیش کرنے کی مدت:

انکوائری کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کریں گے، جبکہ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی اور ایس پی سٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن، ڈی جی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز اسپتال کے سینئر افسران کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ انکوائری کمیٹی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کے بعد 24 گھنٹے میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا سخت ردعمل:

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ وہ پمز اسپتال کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کسی کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اسے ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا، اور اگر اس واقعے میں خود ان کی اپنی غلطی ثابت ہوتی ہے تو انہیں بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔