اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے کے نتیجے میں 15 نومولود بچے لقمہ اجل بن گئے جبکہ لیڈی ڈاکٹر نرسری میں موجود ایک بچے کو زندہ بچانے میں کامیاب رہی۔ نجی نیوز چینل کے مطابق ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ یہ آگ نرسری میں ایئر کنڈیشنر (اے سی) کا کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی جس سے نرسری میں موجود 15 معصوم بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر لگی۔ پمز اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ جس وقت نرسری میں آگ لگی، اس وقت وہاں 16 بچے موجود تھے۔
پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے متعدد بچے جاں بحق ۔۔اگ پر قابو پالیا گیا کولنگ کا عمل جاری۔۔نرسری میں 16 بچے تھے جو بری طرح جھلس گئے ۔۔ آگ تیسرے فلور پر لگی ۔۔اگ کمپریسر پھٹنے سے لگی ۔۔ہسپتال ذرائع pic.twitter.com/Z8PZavxuJk
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) August 26, 2026
یہ بھی پڑھیں: عدالتی فیصلے پر عمل ہوااور 16 ستمبر کو عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے: رانا ثنااللہ
ریسکیو آپریشن اور ہلاکتوں کی تصدیق:
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ پمز کی نرسری میں آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سربراہ پمز پروفیسر عمران سکندر نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آگ لگنے کے واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔
تحقیقات اور انتظامیہ کا مؤقف
ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) پمز کے مطابق ایک نومولود بچے اور متعدد بڑے افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا تھا اور فی الوقت آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔




