ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا سول جوہری توانائی معاہدہ منظوری کے لیے امریکی کانگریس کو بھیج دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ جاری کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ صرف اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو اور باقاعدہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس ٹائپ کرنے والی نیٹلی ہارپ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز
معاہدے کی شرائط اور یورینیم افزودگی پر پابندی:
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت بالکل نہیں ہوگی۔
پرامن اور غیر فوجی مقاصد کا فریم ورک:
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید وضاحت کی تھی کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام بالکل ویسا ہی ہوگا جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام عمل پیرا ہیں۔




