جعلی نوٹوں کا مسئلہ سنگین ہوچکا ہے، جب اسٹیٹ بینک کا گورنر بھی جعلی نوٹ نہ پہچان سکے تو عام آدمی اصلی اور نقلی میں فرق کیسے کرے گا؟ یہ بات سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
جعلی کرنسی کی گردش پر تشویش
ملک میں جعلی کرنسی نوٹوں کی گردش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جعلی نوٹ بینکوں کے نظام اور اے ٹی ایمز کے ذریعے بھی شہریوں تک پہنچ رہے ہیں، لیکن متاثرہ شہریوں کے لیے اس مسئلے سے نمٹنے کا کوئی مؤثر قانونی یا انتظامی طریقہ کار موجود نہیں۔
اسٹیٹ بینک گورنر بھی جعلی نوٹ نہ پہچان سکے
سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل کمیٹی نے جعلی کرنسی کا معاملہ اٹھایا تھا اور اسٹیٹ بینک کے گورنر کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دے کر کہا گیا کہ ان میں سے جعلی نوٹ کی نشاندہی کی جائے، تاہم وہ بھی یہ معلوم نہیں کرسکے کہ ان میں سے کون سا نوٹ جعلی ہے۔
عام شہری کے لیے اصلی نقلی کی پہچان مشکل
انہوں نے کہا کہ ایسے میں عام شہری، خصوصاً وہ شخص جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں، اس بات کا کیسے تعین کرسکتا ہے کہ اس کے پاس موجود نوٹ جعلی ہے یا اصلی؟ ان کے مطابق 5 ہزار روپے کا نوٹ بھی اب جعلی کرنسی کے حوالے سے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
اے ٹی ایم سے جعلی نوٹ نکلنے کی شکایات
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بینکوں کے نظام اور اے ٹی ایمز سے بھی جعلی نوٹ نکلنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ اگر کوئی شہری 10 ہزار روپے نکلوائے اور اس میں ایک ہزار یا کوئی دوسرا نوٹ جعلی نکل آئے تو اس کے پاس رقم واپس لینے یا مسئلہ حل کرانے کے لیے واضح نظام موجود نہیں۔
متاثرہ شہری کے لیے مؤثر نظام موجود نہیں
ان کا کہنا تھا کہ شہری کو ایف آئی آر درج کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن پولیس کے پاس جانے کی صورت میں شہری سے ہی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جعلی نوٹ اس کے پاس کہاں سے آیا۔ انہوں نے اسے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
نئے کرنسی نوٹوں پر مشاورت جاری
سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کے معاملے پر حکومتی سطح پر طویل مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے تجاویز دی گئیں، جن پر ایک سال تک کام کیا گیا، بعد ازاں کابینہ نے بھی منظوری دی، تاہم اس میں تبدیلیاں کی گئیں اور معاملہ دوبارہ مشاورت کے مرحلے میں چلا گیا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے نوٹوں کی تیاری اور اجرا میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
پولیمر نوٹ متعارف کرانے کی تجویز
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نئے نوٹ عالمی معیار کے سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ تیار کیے جانے چاہئیں جنہیں جعلی بنانا انتہائی مشکل ہو اور عام شہری بھی آسانی سے شناخت کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ صرف موبائل ایپ یا پیچیدہ طریقہ کار پر انحصار کافی نہیں بلکہ نوٹ میں ہی ایسے نمایاں اور مضبوط سیکیورٹی فیچرز ہونے چاہئیں جنہیں دیکھ کر عام آدمی اصلی اور جعلی نوٹ میں فرق کرسکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم، 11ہزار آبادی کیلئے مین بازار سرگن میں شفاء میڈیکل اینڈ ڈائیگناسٹک سینٹر کا افتتاح
انہوں نے نئے نوٹوں میں واٹر مارک، خصوصی لائنوں اور دیگر جدید حفاظتی خصوصیات کو بہتر بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کاغذی کرنسی کے ساتھ ساتھ پلاسٹک یا پولیمر نوٹ متعارف کرانے کے تجربے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
سلیم مانڈوی والا نے کینیڈا، جاپان اور سوئٹزرلینڈ سمیت ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں پولیمر کرنسی استعمال کی جاتی ہے اور تجویز دی کہ پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی کا جائزہ لے تاکہ جعلی نوٹوں کی تیاری کو مزید مشکل بنایا جاسکے۔




