آزاد کشمیر :مریم نام کے چرچے،تین مریم اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں دلچسپ سیاسی اتفاق جہاں ایک ہی نام کی تین خواتین کی آزاد کشمیر اسمبلی میں آمد نے سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کرلی ۔

مریم‘ نام کی یہ تینوں خواتین مختلف سیاسی پس منظر اور ذمہ داریوں کے ساتھ مسلم لیگ ن کے سیاسی سفر کا حصہ رہی ہیں اور اب آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے نمایاں ہونے جارہی ہیں۔

ان میں مریم جاوید براہ راست عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے پہلے ہی اسمبلی کا حصہ بن چکی ہیں، جبکہ مریم کشمیری اور مریم ادریس خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:طارق فاروق سپیکر اسمبلی نامزد، ڈپٹی سپیکر کیلئے مشاورت جاری

آزاد کشمیر اسمبلی میں ’مریم‘ نام کی تین خواتین کی موجودگی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تینوں کا اسمبلی تک پہنچنے کا راستہ ایک جیسا نہیں۔

مریم جاوید نے براہ راست انتخاب لڑ کر عوامی مینڈیٹ حاصل کیا، مریم کشمیری نے پارٹی کے خواتین ونگ کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں میں اپنا کردار نمایاں کیا، جبکہ مریم ادریس بھی پارٹی کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہتے ہوئے مخصوص نشست کے لیے نامزد ہوئی ہیں۔

مسلم لیگ ن کی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی

آزاد کشمیر کے حالیہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے مجموعی طور پر مضبوط پوزیشن حاصل کی اور اب حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں میں سے 6 پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ خواتین کی 2 نشستیں پیپلز پارٹی جیتنے میں کامیاب رہی۔

اب آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی 31 نشستیں ہوگئی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی 14 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، اس کے علاوہ غربی باغ سے جیتنے والے ساجد عباسی مسلم لیگ ن کے اتحادی بن گئے ہیں۔

’تین مریم‘ کا اتفاق سیاسی طور پر کیوں اہم ہے؟

آزاد کشمیر کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ ایک اہم موضوع رہی ہے۔ ایسے میں ایک ہی سیاسی جماعت سے ایک ہی نام کی تین خواتین کا اسمبلی تک پہنچنا ایک منفرد سیاسی اتفاق ضرور ہے۔

اس اتفاق کو مسلم لیگ ن کی وسیع تر سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو مریم نواز شریف کی مرکزی قیادت میں موجودگی بھی اس تصویر کا ایک اہم پہلو بن جاتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی ،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا شیڈول جاری

ایک جانب وہ مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور پنجاب کی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جماعت کی سیاست میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، جبکہ دوسری جانب آزاد کشمیر میں خواتین امیدواروں کے انٹرویوز کے عمل میں ان کی شرکت نے بھی خواتین کی سیاسی نمائندگی کے اس مرحلے کو اہم بنا دیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نئی اسمبلی میں یہ تینوں ’مریم‘ قانون سازی اور عوامی مسائل کے حوالے سے کس نوعیت کا کردار ادا کرتی ہیں اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں انہیں کیا ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔

یوں آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی میں ’مریم‘ محض ایک نام نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں خواتین کی مختلف سطحوں پر موجودگی کی ایک دلچسپ تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔