امریکی طیارہ ایمرجنسی سگنل کیساتھ ہی آبنائے ہرمز کے قریب لاپتہ

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کے ایک جدید طیارے کے اچانک غائب ہونے کی اطلاعات کے بعد خطے میں تناؤ اور تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے ڈیٹا پر مبنی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کا ’ای تھری بی سینٹری‘ طیارہ ہنگامی سگنل جاری کرنے کے فوراً بعد ریڈار سے غائب ہو گیا۔

اس طیارے کی آخری لوکیشن آبنائے ہرمز کے قریب ریکارڈ کی گئی تھی جہاں یہ 19 ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا تاہم اب تک اس طیارے کو مار گرائے جانے یا تباہ ہونے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہالن شمالی میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 3 افراد جاں بحق، 6 شدید زخمی

سوشل میڈیا اور بعض عالمی ذرائع ابلاغ پر اس واقعے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید اس طیارے کو ایران کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے

لیکن امریکی سینٹرل کمانڈ نے کسی طیارے کی تباہی یا گرائے جانے کے دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

بوئنگ کمپنی کا تیار کردہ یہ طیارہ امریکی فضائیہ کا ایک انتہائی اہم اور قیمتی اثاثہ ہے جو ہوا میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، طیارے نے ہنگامی حالت کا عالمگیر کوڈ 7700 بھیجا جس کے بعد اس نے 22 ہزار فٹ کی بلندی سے 17 ہزار 700 فٹ تک تیزی سے نیچے آنا شروع کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے متعلق بین الاقوامی میڈیا نے تنہائی اور مبینہ تشدد کا بیانیہ مسترد کردیا

طیارے کے پائلٹس نے فوراً اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے اسے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز سے دور جزیرہ نما عرب کے اندرونی فضائی راستے کی طرف موڑ دیا۔

اسی دوران قطر میں امریکی فضائیہ کے اڈے سے روانہ ہونے والے تنصیباتی ائیر ری فیولنگ ٹینکرز بھی متحدہ عرب امارات کی فضائی حد میں طیارے کی مدد کے لیے پرواز کرتے دیکھے گئے۔

سوشل میڈیا پر پھیلے ان دعوؤں کو جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران نے اس کروڑوں ڈالر مالیت کے اڑتے ہوئے ریڈار کو مار گرایا ہے، دفاعی ماہرین نے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہنگامی کوڈ 7700 کا مطلب انجن میں خرابی، آگ لگنا یا طبی ایمرجنسی ہو سکتا ہے نہ کہ لازمی طور پر کوئی عسکری حملہ۔

اس کے علاوہ ملٹری طیارے کسی بھی ہنگامی صورتحال یا سلامتی کے تحفظ کیلئے عام طور پر اپنے سگنل ٹرانسپونڈرز خود بند کر دیتے ہیں جس سے وہ سویلین ریڈار پر نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔