اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزادکشمیر کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی۔
مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرانے کیلئے تمام حربے استعمال کئے گئے۔ نئی آزاد کشمیر حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا ہے، بحران حل کیلئے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کے مطابق ٹروتھ کمیشن کا قیام تمام اسٹیک ہولڈرز کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ روز اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر آل کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم، امجد چوہدری، سردار حمید، دلاور بخاری، نثار کیانی، اعجاز خان، ہارون رشید، شاہد اعوان، چوہدری فضل حسین، زاہد بشیر، راجہ کفیل احمد، اعجاز عباسی، منظور ڈار، جاوید اقبال، خالد گردیزی اور سید عزادار حسین کاظمی بھی موجود تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت کا 8 بڑے پاسپورٹ دفاتر کے اوقات کار میں اضافے کا اعلان
وزیراعظم نے کہا کہ ضلع حویلی کے انتخابات کو غیر ضروری طور پر اچھالا گیا، حویلی کی تاریخ کے تناظر میں 2026 کے انتخابات انتہائی پرامن رہے۔
2011 کے انتخابات کے بعد تقریباً ایک ماہ تک حویلی میں حالات کشیدہ رہے، متعدد دکانیں جلائی گئیں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ 2016 کے انتخابات میں بھی جانی نقصان ہوا اور حالات خراب ہوئے۔
2021 کے انتخابات میں بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی، تاہم 2026 کے انتخابات حویلی کی تاریخ کے پرامن ترین انتخابات میں شمار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے انتخابات کے دوران کسی قسم کی مداخلت نہیں کی۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محسن عزیز کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے پیپلز پارٹی ہر فورم پر جواب دے گی۔
اگر کسی امیدوار کو انتخابات میں دھاندلی کی شکایت ہے تو الیکشن ٹریبونل سمیت آئینی و قانونی فورمز موجود ہیں، وہاں شواہد کے ساتھ رجوع کیا جا سکتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شاہین کوثر ڈار کو مخصوص نشست نہ ملنے پر پیپلزپارٹی میں پھوٹ،احتجاج کا اعلان
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی حق ملکیت مانگتی رہی اورپونچھ حق نمائندے سے محروم ہوگیا۔ایکشن کمیٹی کو چارسیٹیں ختم کرنے کاوعدہ کیا تھا لیکن اس کے رہنماوں نے میرا مشورہ نہیں مانا۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ سیٹیں بھی ختم ہوسکتی تھیں لیکن وہ ضد پر اڑے رہے،ایکشن کمیٹی اشارہ بھی کرتی تو ضرور راولاکوٹ چلا جاتا۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دعوے کے ساتھ کہتا ہوں حویلی واحد حلقہ ہے جہاں دھاندلی نہیں ہوئی پیپلز پارٹی کی حکومت نے الیکشن میں مداخلت نہیں کی۔
حلقہ والے کہتے ہیں فیصل راٹھور نے بہت کام کئے لیکن ان کی برادری چھوٹی ہے۔ یعنی میرے حلقے والے بھی مانتے ہیں کہ میں نے حلقے میں ترقیاتی کام کرائے۔
انہوںنے کہا کہ حویلی میں دانش سکول ، متعدد سڑکیں اورایک بجلی پراجیکٹ کو منظور کروایا ۔ حویلی کے انتخابات کو غیر ضروری طور پر اچھالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حویلی کی تاریخ کے تناظر میں 2026 کے انتخابات انتہائی پرامن رہے۔میں نے پہلے ہی کہا تھا اگر ہار گیا تو سیاست چھوڑ دوں گا ۔
فیصل راٹھور کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی امیدوار کو دھاندلی کی شکایت ہے تو الیکشن ٹریبونل سمیت آئینی و قانونی فورمز موجود ہیں۔انہوں نے محسن عزیز میرے مقابلے میں کس بنیاد پر الیکشن جیت سکتا تھا ۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی قیادت اقتدار کیلئے جلد بازی میں انتخابات کی طرف گئی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ انتخابات میں اسے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی اور مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرانےکیلئے مختلف حربے استعمال کئےگئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نکیال، سہنسہ، کھوئی رٹہ، چڑھوئی، مظفرآباد کے کوٹلہ اور کھاوڑہ سمیت بعض ایسے حلقے جہاں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی، انہیں بعد ازاں شکست میں تبدیل کیا گیا۔
ان کے مطابق انتخابی معاملات کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابی شکایات کے ازالے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے جلد بازی میں انتخابات کی طرف گئی۔
ہمارا مؤقف تھا کہ سب سے پہلے ریاست میں امن قائم ہونا چاہیے اور اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں، لیکن مسلم لیگ (ن) ہر حال میں انتخابات کرانے اور حکومت حاصل کرنے کیلئے مصر رہی، جس کے نتیجے میں آج آزاد کشمیر کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا تقریباً آٹھ ماہ کے دور کامیاب رہا مختصر مدت کے باوجود حکومت نے ریاست میں گورننس، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سہولیات کے شعبوں میں عملی اقدامات کئے۔
حکومت نے آؤٹ آف اسکول چلڈرن پروگرام کیلئے تقریباً 7 ارب روپے مختص کیے، تعلیم اور صحت کے نظام کی بحالی پر توجہ دی، بڑے ہسپتال اور میڈیکل کالج کی تعمیر کے منصوبوں کو آگے بڑھایا، جبکہ انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کے متعدد منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے آپٹیکل فائبر منصوبے کی منظوری اور 5G ٹیکنالوجی کے ٹرائل سے متعلق پالیسی اقدامات بھی کئے گئے۔
حکومت نے نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل مواقع بڑھانے، سیاحت کے فروغ، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر بھی توجہ دی۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے گئے اور سرکاری گاڑیوں کے فیول اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت نے محدود مدت اور مشکل مالی حالات کے باوجود ترقیاتی عمل کو جاری رکھا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متعدد اقدامات کئے۔
۔




