مظفرآباد (کشمیرڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے 6 انتخابی حلقوں میں کامیاب قرار پانے والے اُمیدواروں کی کامیابی کیخلاف ان کے مدمقابل اُمیدواروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ درخواستوں میں انتخابی نتائج اور مبینہ بے ضابطگیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ آئندہ سماعت کیلئے یکم اور 3 ستمبر 2026ء کی تاریخیں مقرر کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایل اے 31 کھاوڑا 5 سے چوہدری لطیف اکبر نے راجہ ثاقب مجید کی کامیابی کے خلاف انتخابی نتائج چیلنج کیے ہیں۔
اسی طرح ایل اے 12 کوٹلی 5 سے چوہدری محمد یاسین نے راجہ ریاست کے خلاف انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
ایل اے 11 کوٹلی 4 سے راجہ آصف کی کامیابی کے خلاف ان کے مدمقابل اُمیدوار چوہدری اخلاق احمد نے درخواست دائر کی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس 24 اگست کو طلب، نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے
ایل اے 9 کوٹلی 3 سے سردار عمیر نعیم کی کامیابی کیخلاف ان کے مدمقابل اُمیدوار چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ایل اے 5 بھمبر 1 سے کرنل (ر) وقار نور کی کامیابی کے خلاف ان کے مدمقابل چوہدری پرویز اشرف نے درخواست دائر کی ہے۔
ایل اے 15 وسطی باغ سے سردار ضیاء القمر کی کامیابی کے خلاف مشتاق احمد منہاس نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے متعلقہ حلقوں کے انتخابی نتائج اور مبینہ بے ضابطگیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انتخابی نتائج کا جائزہ لیا جائے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی صورت میں کامیاب اُمیدواروں کی کامیابی کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
سپریم کورٹ نے درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں اور معاملہ عدالتی جانچ پڑتال کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر اسمبلی: 8 مخصوص نشستوں پر کاغذاتِ نامزدگی جمع، ن لیگ اور پی پی پی کے امیدوار آمنے سامنے
انتخابی نتائج سے متعلق درخواستوں پر مزید پیش رفت آئندہ سماعتوں کے دوران سامنے آئے گی۔




