بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر تمیم اقبال نے کہا ہے کہ جب تک بنگلا دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) سے متعلق مالی مسائل حل نہیں ہوجاتے بورڈ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد میں جلد بازی نہیں کریگا۔
شیر بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تمیم اقبال نے انکشاف کیا کہ بی پی ایل کے گزشتہ 2 ایڈیشنز کے دوران بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو تقریباً 40 کروڑ ٹکا کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف تاریخی ٹیسٹ فتح، وسیم اکرم بھی متاثر
انہوں نے کہا کہ فرنچائز پر مبنی کرکٹ ٹورنامنٹ سے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو آمدنی حاصل ہونی چاہیے نقصان نہیں اس لیے واضح طور پر کہیں نہ کہیں معاملات درست سمت میں نہیں جارہے۔
تمیم اقبال نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ موجودہ طریقہ کار کے تحت بی پی ایل منعقد نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق جب تک ٹورنامنٹ سے متعلق مسائل حل نہیں کیے جاتے ہر سال بی پی ایل کا انعقاد ضروری نہیں ہے۔
تاہم بی سی بی کے صدر نے واضح کیا کہ بورڈ بی پی ایل کے انعقاد کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا لیکن صرف سالانہ شیڈول برقرار رکھنے کے لیے ٹورنامنٹ کے مالی ڈھانچے میں بہتری پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کیا ہم اسے منعقد کرنا چاہتے ہیں؟ سو فیصد۔ کیا میں اس میں جلد بازی کرنا چاہتا ہوں؟ بالکل نہیں۔
تمیم اقبال کے مطابق بی پی ایل کو مالی طور پر پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں جتنا وقت درکار ہوگا بورڈ اتنا وقت لے گا خواہ اس کے نتیجے میں ٹورنامنٹ کو 2 سال تک مؤخر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ اگر معاملات درست طریقے سے حل کرنے میں 6 ،12 یا 24 ماہ لگتے ہیں تو وہ اتنا وقت دینے کے لیے تیار ہیں۔
بی سی بی نے بی پی ایل کی فرنچائزز کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت بھی شروع کردی ہے۔ بورڈ کے مطابق واجب الادا رقوم، ادائیگیوں میں ناکامی اور بینک ضمانتوں سمیت مختلف معاملات کو مرحلہ وار حل کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسٹار بنگلا دیشی کرکٹرشکیب الحسن کی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات ختم
تمیم اقبال نے کہا کہ جن فرنچائزز نے اپنی مالی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ان کے معاملات طے کرنا ضروری ہیں، جبکہ تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں اور بینک ضمانتوں کے مسائل کا بھی مرحلہ وار جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بی پی ایل کا انعقاد اسی وقت کیا جائے گا جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو یقین ہو کہ ٹورنامنٹ بورڈ کے لیے منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے۔
تمیم اقبال نے کہا کہ ہم بی پی ایل اسی وقت منعقد کریں گے جب بی سی بی کو منافع کمانے کی پوزیشن میں لے آئیں گے۔




