ایران نے آبنائے ہرمزکھولنے کے لیے امریکا کو مطالبات کی فہرست تھمادی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ فہرست ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا کے حوالے کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یو اے ای نے ایران کیساتھ تمام تجارتی،کاروباری اور مالی معاملات معطل کر دیئے
ساتھ ہی باقر قالیباف نے امریکا سے اس اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نکات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا جس کی میعاد کل ختم ہوچکی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران، لبنان سمیت ہر محاذ پر فوجی کارروائیاں روکنے پر راضی ہوئے تھے جبکہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل یا تیار کرنے کے حق سے دست بردار ہوا تھا۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکا نے ایرانی بحری ناکا بندی ختم کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمزکھلی رکھنے پر اتفاق کیا تھا ۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی تعمیر نو کا منصوبہ شروع کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔ امریکا ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی پر بھی راضی ہوا تھا ۔
ادھر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ وہ دنیا کو خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کے عالمی نظام میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں، اردوان کا ٹرمپ کو مشورہ
صدرٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قراردینے پر ردعمل میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکا میں آبنائے ہرمز کھولنے کی صلاحیت نہ رکھنے اور اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے میں جو خلا ہے وہ اُس سوا گیارہ ہزار کلومیٹر فرق سے بھی زیادہ ہے جو واشنگٹن اور آبنائے ہرمز کے درمیان ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے۔




