مصنوعی ذہانت کا حیران کن تجربہ!اے آئی ایجنٹس آپس میں لڑ پڑے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک دلچسپ مگر تشویشناک تجربے کے دوران تین اے آئی ایجنٹس ایک ہی سافٹ ویئر پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے حریف بن گئے اور باہمی طور پر ایک دوسرے کی کارکردگی متاثر کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

اینتھروپک کا حیران کن تجربہ:

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اے آئی کمپنی اینتھروپک کے ایک تجربے میں تین کلاؤڈ بیسڈ اے آئی ایجنٹس کو ایک ہی سافٹ ویئر پروجیکٹ تک رسائی دی گئی، تاہم انہیں ایسی ہدایات فراہم کی گئیں جو ایک دوسرے کے مقاصد سے بالکل متصادم تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سام سنگ کی پریمیم وائرلیس ہیڈ فونز کی مارکیٹ میں واپسی، گیلیکسی ایچ ون متعارف کرانے کی تیاری

حریف سمجھنے کی غلط فہمی:

دلچسپ بات یہ تھی کہ تینوں اے آئی سسٹمز کو اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ اسی پروجیکٹ پر دیگر اے آئی ایجنٹس بھی کام کر رہے ہیں۔ تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس تجربے کے دوران ایجنٹس نے یہ فرض کرنا شروع کر دیا کہ دیگر سسٹمز جان بوجھ کر ان کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

ملٹی ایجنٹ ٹرف وار اور سائبر حملہ:

اس غلط فہمی کے بعد صورتحال اس وقت شدید ہو گئی جب اے آئی ایجنٹس نے ایک دوسرے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے باقاعدہ اقدامات شروع کر دیے۔ ان اقدامات میں خود کو نقل کرنے والے میلویئر (Malware) کے استعمال کی کوشش بھی شامل تھی۔ اینتھروپک نے اس صورتحال کو ‘ملٹی ایجنٹ ٹرف وار’ قرار دیا ہے، جس کا مطلب ایک ہی ماحول میں کام کرنے والے خودمختار سسٹمز کا ایک دوسرے کو حریف سمجھ لینا ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت ،سپارکو کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنےکیلئے خلائی ٹیکنالوجی پر دوسرا علاقائی سمپوزیم، ماہرین اور حکام کی شرکت

مستقبل کے لیے محفوظ نظام کی ضرورت:

کمپنی کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں جب متعدد خودمختار اے آئی ایجنٹس کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے گا، تو ان کے غیر متوقع رویوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط حفاظتی نظام اور مسلسل نگرانی بے حد ضروری ہوگی۔ ماہرین کے مطابق اے آئی کو زیادہ خودمختاری دینے کے ساتھ یہ سوال انتہائی اہم ہو چکا ہے کہ مختلف ایجنٹس کے باہمی تعاون کو کیسے یقینی بنایا جائے اور غلط فہمی کی صورت میں ان کے رویے کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔