اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) :عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک بار پھر آسمان پر پہنچ گئی ہے جہاں قیمتی دھات کی فی اونس قیمت 4 ہزار 400 ڈالر کے قریب جا پہنچی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ شدید تیزی ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی ہے جب امریکی معیشت سے متعلق سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار کے سامنے آنے کی وجہ سے امریکی ڈالر دباؤ کا شکار ہوا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اس کمی کے نتیجے میں عالمی خریداروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو گیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ کا مثبت رجحان اور معاشی عوامل:
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی سونے کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد کی بڑھوتری دیکھی گئی تھی، جس کے بعد رواں ہفتے بھی مارکیٹ میں وہی مثبت رجحان مسلسل برقرار ہے۔ امریکا میں سامنے آنے والے حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق وہاں کے صارفین کے اعتماد میں کمی آئی ہے جبکہ ریٹیل سیلز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان اعداد و شمار نے امریکی معیشت کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
شرح سود اور سونے کی طلب پر اثرات:
ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد فوری طور پر شرح سود میں اضافے کے خدشات میں بھی کمی آئی ہے، اور یہی صورتحال سونے کی قیمت کے لیے ایک مثبت عنصر بن رہی ہے۔ چونکہ شرح سود میں اضافے کی توقع عموماً قیمتی دھات کی طلب پر دباؤ ڈالتی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سونا سرمایہ کاروں کو سود یا کسی قسم کے مقررہ منافع کی ادائیگی نہیں کرتا۔ ایسے میں جب شرح سود بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوں تو سرمایہ کار سونے کے بجائے دیگر منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاہم، شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے سے صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے اور سرمایہ کار سونے کی جانب دوبارہ متوجہ ہو سکتے ہیں، جس سے اس کی طلب بڑھنے اور قیمت کو مزید سہارا ملنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ عالمی صورتحال میں امریکی ڈالر کی سمت، معاشی اعداد و شمار اور شرح سود سے متعلق توقعات عالمی سونے کی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم عوامل رہیں گے۔
مستقبل کی پیش گوئیاں اور خدشات:
اس تمام تر صورتحال کے باوجود یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ سونا اب مسلسل اوپر ہی جائے گا۔ اگر امریکی ڈالر دوبارہ مضبوط ہو گیا، شرح سود بڑھانے کے امکانات بڑھ گئے یا سرمایہ کاروں نے منافع لینا شروع کر دیا تو سونے کی قیمت میں نمایاں کمی بھی آ سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بڑے اداروں نے حالیہ مہینوں میں اپنی 2026 کی قیمتوں کی پیش گوئیاں بھی کم کر دی ہیں۔




