پنشن سرکاری ملازم کا بنیادی حق ہے، کوئی مہربانی نہیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنشن کو محض کوئی رعایت یا سرکاری مہربانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت عالیہ نے خیبرپختونخوا کے ایک بلدیاتی ملازم کی بیوہ کی جانب سے دائر اپیل کو باقاعدہ منظور کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پنشن سمیت تمام واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔ عدالت کے تحریری فیصلے میں یہ نقطہ اٹھایا گیا ہے کہ پنشن دراصل سرکاری ملازم کی برسوں پر محیط خدمات کا ایک محفوظ معاوضہ ہوتی ہے، اور اس کا سیدھا تعلق انسان کے بنیادی حقوق، انسانی وقار اور حقِ زندگی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ فیصلے میں مزید قرار دیا گیا کہ کسی بھی ملازم یا اس کے لواحقین کو ان کے جائز پنشنری فوائد سے محروم کرنا آئینی انصاف کے بنیادی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

قانون کی تشریح کا اہم اصول:

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ اہم قانونی اصول بھی سامنے رکھا کہ اگر کسی قانون یا سروس رولز کی ایک سے زائد تشریحات ممکن ہوں تو ہمیشہ وہ تشریح اختیار کی جانی چاہیے جو ملازم کے فائدے اور حق میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ججز کی بنیادی تنخواہ اور جوڈیشل الاؤنس میں بڑا اضافہ، پنشن پیکج میں بھی اہم تبدیلیاں!

یہ مقدمہ ٹی ایم اے ایبٹ آباد کے متوفی ملازم بشیر حسین کی بیوہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ بشیر حسین نے سال 2011 میں میونسپل ایڈمنسٹریشن ایبٹ آباد میں بطور فائر مین اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور نومبر 2020 میں چوکیدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔

کوالیفائنگ سروس اور آڈٹ کا اعتراض:

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، بشیر حسین کی پنشن کے لیے درکار کوالیفائنگ سروس میں 10 ماہ اور 25 دن کی کمی موجود تھی۔ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے اس سروس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے معافی کی منظوری دے دی تھی، مگر آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس پر اعتراض لگا دیا تھا۔

بشیر حسین کے سال 2021 میں انتقال کر جانے کے بعد ان کی بیوہ نے فیملی پنشن اور دیگر متعلقہ مالی فوائد کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا۔ عدالت نے اب تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بیوہ کے حق میں اپیل منظور کر لی ہے اور متعلقہ حکام کو پنشن، گریجویٹی، کمیوٹیشن اور دیگر تمام بقایا جات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملازمین کے حقوق کا تحفظ:

یہ تحریری فیصلہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا ہے، اور وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری فیصلوں میں جسٹس شاہ بطور مصنف جج بھی درج ہیں۔

یہ اہم فیصلہ تمام سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے عدالت نے پنشن کو ملازمت کے اختتام پر ملنے والا ایک محفوظ آئینی حق قرار دیتے ہوئے اس کے مکمل تحفظ پر زور دیا ہے۔