کیرولائن لیوٹ کے استعفے کی وجوہات پر ایرانی سفارتخانے اور وائٹ ہاؤس کے بیانات میں تضاد

کیپ ٹاؤن میں قائم ایرانی سفارتخانے نے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ خاندانی مصروفیات کے باعث نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہو کر دیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سفارتخانے نے کیرولائن لیوٹ کی ایک ناخوشگوار موڈ والی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھوکہ انتہائی بدترین عمل ہوتا ہے، بالخصوص اس وقت جب باس اپنے ماتحت کو خطرے میں ڈال کر خود فوڈ ٹرک میں فرار ہونے کی کوشش کرے۔ ایرانی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حالات میں رفاقت کی تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں اور کسی قاتل سے اس سے زیادہ کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ سفارتخانے نے کیرولائن لیوٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ دے کر انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق تبدیل نہیں کرسکتے ، ایرانی عدلیہ

وائٹ ہاؤس کا موقف اور تردید :

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایرانی سفارتخانے کے اس دعوے کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ترکیہ کے دورے کے موقع پر کیرولائن لیوٹ صدر ٹرمپ کے ساتھ موجود ہی نہیں تھیں।

وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ کے طیارے پر ایران کی طرف سے حملے کے خدشے کی اطلاع اسرائیلی خفیہ سروس نے دی تھی، جبکہ سی آئی اے کے کچھ اہلکاروں نے اس خدشے کو متنازع قرار دیا تھا۔

ترکیہ سے روانگی کا واقعہ:

واضح رہے کہ 8 جولائی کو ترکیہ سے روانگی کے وقت صدر ٹرمپ ایئر فورس ون طیارے سے نکل کر ایک کیٹرنگ ٹرک میں منتقل ہوئے تھے اور بعد میں ایک چھوٹے ایئر فورس بوئنگ سی تھرٹی ٹو اے طیارے کے ذریعے برطانیہ روانہ ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: نیٹو اتحادی ٹرمپ کی پالیسیوں سے کتنے وفادار ہیں؟ امریکا نے سوالات پوچھ لیے

تاہم کیرولائن لیوٹ کے استعفے کی اصل وجوہات اور ایرانی سفارتخانے کے دعوے کے حوالے سے دونوں اطراف کے سامنے آنے والے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔