سپریم کورٹ

خلع کا حق استعمال کرنا عورت کا آئینی حق ہے،سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلع کا حق استعمال کرنا عورت کا آئینی حق ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس قانونی حق کے استعمال پر کسی بھی قسم کا تشدد آئین پاکستان پر حملے کے مترادف ہے اور خلع کا حق مانگنے والی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف قانون پوری سختی سے حرکت میں آئے گا۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کا تحریر کردہ چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تین رکنی بنچ نے جاری کیا۔ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا تحفظ)، آرٹیکل 14 (حرمتِ آدمیت)، اور آرٹیکل 25 (شہریوں کی مساوات) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تمام مواد خواتین کے حقوق اور ان کے مکمل تحفظ کی ضامن ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہاکہ قانونی حق مانگنے پر کسی عورت کو قتل کرنا سفاکانہ فعل اور قانون کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ سرد مہری اور منصوبے کے تحت کیے گئے ایسے قتل کے مجرم کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ آزادکشمیر کے وفد کی اہم ملاقات

گھر کی چار دیواری میں ہونے والے جرائم کے معاملے میں قریبی رشتہ داروں کی گواہی کو صرف رشتہ داری کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ سابقہ اہلیہ کو قتل کرنے والے مجرم وسیم عباس کی جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے سامنے آیا، جس میں عدالت نے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

11 اکتوبر 2020 کو وسیم عباس نے اپنی سابقہ اہلیہ شہناز بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔

مقتولہ نے فیملی کورٹ سے خلع کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے 48 گھنٹے کے اندر ملزم نے طلاق کی رنجش میں گھر میں داخل ہو کر ان کے پیٹ، ہاتھ اور کمر پر 6 گولیاں ماریں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:تعلیمی اداروں میں ہراسانی کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، اہم ترین ہدایات جاری

ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی، جس کی لاہور ہائیکورٹ نے توثیق کی۔ سپریم کورٹ نے بھی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔