سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی معزز بنچ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک سنگین زیادتی ہے، اور ایسا ادارہ جو ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے بنیادی تعلیمی مشن کی نفی کرتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نامناسب ماحول میں طلباء کو عملی طور پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ طاقت بدعنوانی کا جواز ہے اور سچائی پر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنا سراسر غیر قانونی عمل اور قانون، اخلاقیات اور وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف متاثرہ فرد کے وقار اور تحفظ کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے تعلیمی ادارے کے ماحول کو بگاڑ دیتے ہیں اور خواتین اساتذہ کے لیے کام کی جگہ پر ایک غیر محفوظ اور تشویشناک صورتحال پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر ، ایڈہاک ڈاکٹروں کو ہٹانے کا حکم معطل ، فریقین کو نوٹس جاری
فیصل آباد کے اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کے ملازم کی سزا بحال:
سپریم کورٹ نے یہ اہم فیصلہ گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں تعینات گریڈ 17 کے ملازم کامران خان کے خلاف دائر کیس میں سنایا، جن پر ہراسانی کے سنگین الزامات عائد تھے۔ سپریم کورٹ نے ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کی طرف سے کامران خان کو دی گئی “پانچ سالہ سروس کی ضبطی” کی سزا کو مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے ملزم کی اپیل کو بھی زائد المعیاد قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔
ہراسانی کی تعریف اور ضابطہ اخلاق کی واضح تشریح:
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کام کی جگہ پر ہراسانی کی حدود کو تفصیلاً واضح کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، ملازمت کے فوائد یا مراعات کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا، بلا اجازت جسمانی رابطے کی کوششیں کرنا، اور غیر متعلقہ تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا نامناسب پیغامات بھیجنا کام کی جگہ کے وقار اور خودداری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ آوازیں کسنا، اس جیسی دیگر نامناسب حرکات کرنا، اور کام کی جگہ پر مخالفانہ یا غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا مکمل طور پر غیر قانونی افعال اور رویے ہیں جو کسی بھی شخص کے تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔
ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے اہم عدالتی احکامات:
عدالتِ عظمیٰ نے کام کی جگہ پر صحت مند اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف واضح پالیسی اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا ایک مضبوط نظام قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے کے تحت وزارتِ تعلیم کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کی نمایاں جگہوں پر ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق کو لازمی آویزاں کرانے کے انتظامات کرے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں باقاعدہ اندرونی “ان ہاؤس انکوائری کمیٹیوں” کی تشکیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرہ خواتین اساتذہ کسی خوف اور دباؤ کے بغیر براہِ راست اپنی شکایات درج کروا سکیں۔
مزید پڑھیں: سابق ایرانی سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ میں پراسرار نقاب پوش شخص کی شناخت سامنے آ گئی
اس تاریخی فیصلے پر مکمل عملدرآمد اور تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن، اور تمام وفاقی و صوبائی محتسب کو فوری طور پر ارسال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔




